ماہِ شوال کے فضائل ،مسائل اوررسومات و بدعات
(دارالافتاء الاخلاص)

ماہِ شوال اسلامی سال کا دسواں قمری مہینہ ہے۔

ماہِ شوال کا لغوی معنی اور وجہ تسمیہ:

۱۔‘‘شوال‘‘ عربی مصدر ’’شول‘‘ سے مشتق ہے ،اور’’شول‘‘ کے معنی’’اوپراٹھنا اوراوپر اٹھانا، بلند ہو نا اوربلند کرنا‘‘ کے آتے ہیں ۔عربی میں کہاجاتا ہے’’شالت الإبل بأذنابها للطراق‘‘یعنی نر اونٹ نے جفتی کرنے لیے اپنی دم اوپر اٹھالی۔(قاموس الوحید، ص:۸۹۹،ط: ادارۃ اسلامیات)
علامہ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں کہ’’شوال‘‘’’شالت الإبل بأذنابها للطراق‘‘ سے مشتق ہے،کیونکہ اس مہینے میں نر اونٹ مادہ اونٹ سے جفتی کرتے اور مستی میں اپنی دم اٹھالیتے تھے،تو اس مناسبت کی وجہ سے اس مہینے کو ‘‘شوال‘‘کہاگیا۔(۱)
۲۔’’شوال‘‘ ’’تشویل‘‘ سے مشتق ہے اور ’’تشویل‘‘کا معنی ’’اونٹ کے دودھ کاکم ہونا‘‘کے ہیں ۔ عربی میں کہاجاتا ہے’’شوّلت الناقۃ و شوّلت المزادۃ‘‘یعنی اونٹی کا دودھ اورمشکیزےکا پانی کم ہوگیا۔
(قاموس الوحید، ص: ۹۰۰،ط:ادارۃ اسلامیات)
علامہ ابن منظور لکھتے ہیں کہ ’’شوال‘‘ کے مہینے میں اونٹنیوں کے دودھ میں کمی ہوجاتی تھی ،اس لیے اس مہینے کو ’’شوال‘‘ کہا گیا ۔(۲)
۳۔’’شوال‘‘’’شالت نعامۃ القوم ‘‘سے مشتق ہے اور ’’شالت نعامۃ القوم ‘‘کا معنی ‘‘قوم کا شیرازہ بکھرگیا، وہ اپنے مکان خالی کرگئے ‘‘ کے ہیں ، چونکہ اس مہینے میں عرب لوگ سیر وسیاحت اور شکار کےلیے اپنے مکانات خالی چھوڑ کر نکل جاتےتھے ، اس لیے اس مہینے کو ’’شوال‘‘ گیا۔(۳)
۴۔علامہ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ایک روایت نقل کی ہے ،جس میں ’’شوال‘‘ کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہےکہ اس مہینے میں لوگوں کے گناہ اٹھالیے جاتے ہیں (معاف کردئیے جاتے ہیں)،اس لیے اس مہینے کو ’’شوال‘‘ کہا گیا ۔(۴)

ماہِ شوال کے فضائل:
۱۔ماہِ شوال عید الفطر کا مہینہ ہے۔
ماہِ شوال کی پہلی تاریخ کو عید الفطر منائی جاتی ہے،جو اسلام کا ایک عظیم الشان تہوار ہے اورمسلمانوں کے لیے بڑی مسرت او رخوشی کا دن ہے۔

عن أنس، قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما، فقال: ما هذان اليومان؟ قالوا: كنا نلعب فيهما في الجاهلية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله قد أبدلكم بهما خيرا منهما: يوم الأضحى، ويوم الفطر "
(سنن أبی داؤد،حدیث نمبر:۱۱۳۴،ج:۱،ص:۲۹۵،ط: المکتبۃ العصریۃ)

ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ہجرت کے بعد) رسول ﷺ مدینہ تشریف لائے (اہل مدینہ نے) دو دن کھیل کود کے لئے مقرر کر رکھے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ زمانۂ جاہلیت میں ہم ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے ۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دوتہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں، ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطرکا دن۔

۲۔عید الفطر کا دن انعامات حاصل کرنے کا دن ہے۔


عن ابن عباس قال: "يوم الفطر يوم الجوائز"

(کنزالعمال، حدیث نمبر:۲۴۵۴۰،ج:۸،ص:۶۴۴،ط: مؤسسۃ الرسالۃ)

ترجمہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ عید کا دن انعامات ملنے کا دن ہے۔

وعن سعد بن أوس الأنصاري عن أبيه رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم عيد الفطر وقفت الملائكة على أبواب الطرق فنادوا اغدوا يا معشر المسلمين إلى رب كريم يمن بالخير ثم يثيب عليه الجزيل لقد أمرتم بقيام الليل فقمتم وأمرتم بصيام النهار فصمتم وأطعتم ربكم فاقبضوا جوائزكم فإذا صلوا نادى مناد ألا إن ربكم قد غفر لكم فارجعوا راشدين إلى رحالكم فهو يوم الجائزة ويسمى ذلك اليوم في السماء يوم الجائزة۔ رواه الطبراني في الكبير من رواية جابر الجعفي وتقدم في الصيام ما يشهد له

(الترغیب و الترھیب للمنذری،حدیث نمبر:۱۶۵۹،ج:۲، ص:۹۸،ط: دار الكتب العلمية)
ترجمہ:
حضرت سعد ابن اوس انصاری اپنے والد اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب عید الفطر کا دن آتا ہے، تو فرشتے تمام راستوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں: اے مسلمانو! اپنے رب کریم کی بارگاہ میں آؤ،جو اپنے کرم اوراحسان سے (بندوں کو)نیکیوں کی توفیق دیتا ہےاور اس پر اجرعظیم سے نوازتاہے۔تمہیں اس کی طرف سے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ، تو تم نے روزے رکھے اور اپنے رب کی اطاعت گزاری کی ،تمہیں اس کی طرف سے تراویح پڑھنے کا حکم دیا گیا ،تو تم نے تراویح پڑھی ،سو اب چلو اپنے انعامات لو ، پھر جب لوگ عید کی نماز پڑھ لیتے ہیں ، تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے:اے لوگو! تمہارے رب نے تمہاری بخشش فرمادی، پس تم اپنے گھروں کو کامیاب و کامران لوٹو، یہ عید کا دن انعام کا دن ہے اور آسمان میں اس دن کا نام یوم الجائزۃیعنی ’’انعام کادن ‘‘ رکھا گیا ہے۔

۳۔عید الفطر کا دن اللہ تعالیٰ کی رضاء و مغفرت اور دعاء کی قبولیت کا دن ہے۔


ایک طویل حدیث میں عید کے دن کا بڑا پیارااورخوبصورت منظر بیان کیا گیا ہے، جسے پڑھ کر یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت کس قدر جوش میں ہوتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس انعام والے دن کتنانوازتے ہیں ،چنانچہ فرمایا:
جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہر وں میں بھیجتے ہیں، وہ زمین میں اُتر کر تمام گلیوں ، راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے،پکارتے ہیں : اے محمد (ﷺ)کی امّت !اس کریم رب کی (درگاہ)کی طرف چلو، جو بہت زیادہ عطاء فرمانے والا ہے اور بڑے بڑے قصور کو معاف فرمانےوالا ہے ، پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں : کیا بدلہ ہے، اُس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو ؟
وہ عرض کرتے ہیں : ہمارے معبود اور ہمارے مالک! اُس کا بدلہ یہی ہےکہ اُس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے، تو اللہ تعالیٰ اِرشاد فرماتے ہیں : اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں، میں نے اُن کو رمضان کے روزوں اورتراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطاء کردی اور بندوں سے خطاب فرماکر اِرشاد ہوتا ہے:اے میرے بندو! مجھ سے مانگو ، میری عزّت کی قسم ، میرے جلال کی قسم !آج کے دن اپنے اس اجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے،وہ میں عطاء کروں گااور جو اپنی دنیا کے بارے میں سوال کروگے، اُس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا ، میری عزت کی قسم ! جب تک تم میرا خیال رکھوگےمیں تمہاری لغزشوں پر ستاری (یعنی پردہ پوشی کا معاملہ)کرتا رہوں گا (اور ان کو چھپاتا رہوں گا ) ،میری عزّت کی قسم! اور میرے جلال کی قسم!میں تمہیں مجرموں (اور کافروں)کے سامنے رسوا اور ذلیل نہ کروں گا ، بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا ، پس فرشتے اس اجرو ثواب کو دیکھ کر جو امّت کو افطار کے دن( رمضان کے ختم ہونے کے دن )ملتا ہے ،خوشیاں مناتے ہیں ۔

(شعب الإيمان ،ج:۵،ص:۲۷۷،ط:مکتبۃ الرشد)(۵)

"عیدالفطر" کی وجہ تسمیہ:

’’ افطار اور فطر‘‘ ہم معنی الفاظ ہیں۔ جس طرح ہر روزہ کا’’ افطار‘‘ غروب آفتاب کے بعد کیا جاتا ہے، اسی طرح رمضان المبارک کے پورے مہینے کا ’’ افطار‘‘ اسی عید کے روز ہوتا ہے، اس لئے اس مبارک دن کو ‘‘عیدالفطر‘‘ کہتے ہیں۔

شبِ عید کے فضائل:

شوال کا مہینہ بابرکت مہینہ ہے، اس مہینے کی برکتوں کاآغاز اس مہینے کی پہلی ہی رات سے ہوجاتاہے،جس طرح شوال کا پہلادن ‘‘عیدالفطر‘‘کا بابرکت دن ہے،اسی طرح اس کی رات بھی بابرکت ہے اوراحادیث مبارکہ میں اس رات کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
۱۔عیدکی رات ’’انعام کی رات ‘‘ہے۔
شعب الایمان کی ایک طویل روایت میں ہے۔(جس کا کچھ حصہ ماقبل میں ذکرکیا گیا۔)
سميت تلك الليلة ليلة الجائزة
اس رات کو ”لیلۃ الجائزہ“یعنی’’ انعام ملنے والی رات‘‘ کہا گیا ہے۔

۲۔ عن أبي أمامة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم -، قال:"من قام ليلتي العيدين محتسبا لله، لم يمت قلبه يوم تموت القلوب"
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر:۱۷۸۱،ج:۲،ص:۶۵۸،ط:دارالرسالۃ العالمیۃ)(۶)

ترجمہ:

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا :
جس نے عیدین (عید الفطر اور عید الاضحی)کی دونوں راتوں میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت میں قیام کیا، اُس کا دل اُس دن مردہ نہیں ہوگا، جس دن سب کے دل مُردہ ہوجائیں گے۔

۳۔وروي عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أحيا الليالي الخمس وجبت له الجنة ليلة التروية وليلة عرفة وليلة النحر وليلة الفطر وليلة النصف من شعبان
رواه الأصبهاني
(الترغیب و الترھیب للمنذری،حدیث نمبر:۱۶۵۶،ج:۲،ص:۹۸،ط:دارالکتب العلمیۃ)


ترجمہ:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺسے نقل فرماتے ہیں :
جو چار راتوں کو عبادت کے ذریعہ زندہ کرے، اُس کےلیےجنت واجب ہوجاتی ہے ۔
١- لیلۃ الترویۃ یعنی آٹھ ذی الحجہ کی رات۔
٢- عرفہ یعنی نو ذی الحجہ کی رات ۔
٣- لیلۃ النحر یعنی دس ذی الحجہ کی رات۔
۴- لیلۃ الفطر یعنی عید الفطر کی شب۔
۵۔ شعبان کی پندرہویں شب یعنی شبِ براءت

فائدہ:

عیدین کی راتوں کی فضیلت کے بارے میں وارد ہونے والی روایات سند کے اعتبار سے،اگرچہ کچھ کمزور ہیں،لیکن فضائل کے باب میں ضعیف روایت قابلِ قبول ہے اورمذکورہ روایات مختلف سندوں سے مروی ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں،جس کی وجہ سے ضعف کسی درجہ میں دور ہوجاتاہے۔(تفصیل کےلیے حاشیہ دیکھیے۔)(۷)
علامہ نووی ؒ نے عیدین کی شب میں عبادت کو مستحب کہا ہے اور علامہ مناوی ؒ نے سنت قرار دیا ہے۔(۸)
لہذا عیدین کی رات میں عبادت ،ذکراورتلاوت وغیرہ کا اہتمام کرناچاہیے۔

۲۔ ماہِ شوال حج کی تیاری کا پہلا مہینہ ہے۔


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ:

حج کے مہینےطے شدہ اور معلوم ہیں۔(۹)
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ ’’اشہرِ حج‘‘ تین ہیں، جن میں سے پہلا شوال اور دوسرا ذیقعدہ اور تیسرا ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔(۱۰)
حضرت عمرؓ، حضرت عبد اللہؓ بن عمر، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ اور حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہی روایت کیا گیا ہے اور یہی اکثر تابعینؒ کا قول ہے۔(۱۱)
یہ بات ماہِ شوال کی عظمت و فضیلت کو اور بڑھا دینے والی ہے کہ یہ حج کا ابتدائی مہینہ ہے۔

۳۔ماہ ِ شوال اور صدقۃ الفطر:

عن ابن عباس ، قال : فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث ، وطعمة للمساكين ، فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ، ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات.

(سنن ابن ماجۃ،حدیث نمبر:۱۸۲۷،ج:۳،ص:۲۸۴،ط: دار الفكر)


ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول ﷺ نے صدقہ فطر روزے دار کو لغواوربےہودہ باتوں کے اثرات سے پاک کرنے اورمسکینوں کےکھانے کا بندوبست کرنے کے لیے مقرر فرمایا ہے،جس شخص نے نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کردیا،وہ مقبول صدقہ فطرہےاورجس نے نمازِعید کے بعدادا کیا ،تو وہ عام صدقات کی طرح ایک صدقہ ہے۔

وعن جرير رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صوم شهر رمضان معلق بين السماء والأرض ولا يرفع إلا بزكاة الفطر"
رواه أبو حفص بن شاهين في فضائل رمضان وقال حديث غريب جيد الإسناد

(الترغیب و الترھیب للمنذری،حدیث نمبر:۱۶۵۳،ج:۲،ص:۹۷،ط:دارالکتب العلمیۃ)

ترجمہ:

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:ماہِ رمضان کا روزہ آسمان اورزمین کے درمیان معلق(لٹکا) رہتا ہےاور بغیر صدقہ فطر کے اوپر نہیں اٹھایاجاتا۔

عن ابن عمر , قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر , وقال: «أغنوهم في هذا اليوم».

(سنن دارقطنی،حدیث نمبر:۲۱۳۳،ج:۳،ص:۸۹۔ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

ترجمہ:
حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر مقررکیا اور فرمایا:اس دن میں ان فقراء کو سوال کرنے سے مستغنی کردو۔

فائدہ:
صدقہ فطر کے احکام کا تفصیلاً مطالعہ کےلئے ‘‘دارالافتاء الاخلاص ‘‘ کی ویب سائٹ http://AlikhlasOnline.com ملاحظہ فرمائیے۔

ماہِ شوال کے اعمال:


۱۔عید الفطر کی فضیلت:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ جب عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں کہ دیکھو! ان لوگوں نے ایک ماہ کے روزہ رکھے اور حکم مانا اور فرماتے ہیں: اے میر ے فرشتو! بتاؤ! اس مزدور کی کیا جزا ہے، جس نے عمل پورا کردیا ؟وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے رب اس کی جزا یہ ہے کہ اس کا بدلہ پورا دے دیا جائے ۔اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: اے میرے فرشتو!میرے بندوں اور بندیوں نے میرا فریضہ پورا کردیا، جو ان پر لازم تھا اور اب دعا میں گڑگڑانے لگے، قسم ہے میرے عزت و جلال اور کرم کی اور میرے علو وارتفاع کی، میں ضرور ان کی دعا قبول کروں گا۔ پھر (بندوں کو)ارشاد باری تعالیٰ ہوتاہے کہ میں نے تم کو بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا، لہذا اس کے بعد (عید گاہ سے)بخشے بخشائے واپس ہوتے ہیں۔
(فضائل الاوقات للبیھقی،حدیث نمبر:۱۵۵، ص:۳۱۸،ط: مكتبة المنارة)(۱۲)

عید الفطر کی نماز کا حکم :

عید کی دو رکعت نماز چھ زائد تکبیرات کے ساتھ اد اکرنا واجب ہے۔(۱۳)

۲۔عید کی نما زسے پہلےپہلے صدقہ فطر ادا کرنا:

مستحب یہ ہے کہ عیدالفطر کے دن نماز عید کے لئے جانے سے پہلے پہلے صدقۃ الفطر ادا کردیا جائے۔(۱۴)

۳۔شوال کے چھ روزے:

واضح رہے کہ شوال کے چھ روزے رکھنے کی احادیثِ مبارکہ میں فضیلت وارد ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی صحیح سند کے ساتھ حدیث کی مستند کتابوں میں موجود ہے:

سنن ابن ماجۃ میں ہے:


عن ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ عن رسول اللہ ﷺ أنہ قال: "من صام ستۃ أیام بعد الفطر کان تمام السنۃ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر أمثالہا".

(سنن ابن ماجۃ، کتاب الصوم ، باب صیام ستۃ أیام من شوال،حدیث نمبر:۱۷۱۵، ج:۳،ص:۲۰۱،ط:دارالفکر)

ترجمہ:

حضرت ثوبان رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جس نے (رمضان کے روزوں کے بعد) شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ پورے سال کے روزے شمار ہوں گے، کیونکہ جو بھی کوئی نیک کام کرتا ہے، تو اسے اس کا دس گنا اجر ملتا ہے‘‘۔

صحیح مسلم میں ہے:


عن أبی أیوب الانصاری ؓ أنہ حدثہ أن رسول اللہ ﷺ قال: "من صام رمضان ثم أتبعہ ستا من شوال کان کصیام الدہر".

(صحیح مسلم، کتاب الصوم ، باب استحباب صوم ستۃ من شوال حدیث نمبر:۱۱۶۴، ج:۲،ص:۸۸۲،ط:دارإحیاء التراث العربی)
أخرجہ أحمد مسندہ: 38؍۵۱۴،(23533،۲۳۵۵۶،۲۳۵۶۱)،ط:مؤسسۃ الرسالۃ، وابن خزیمۃ فی صحیحہ:۳؍۲۹۷،(۲۱۱۴)،ط:المکتب الإاسلامی،الطبرانی فی المعجم الأوسط:۵؍۴۹،(۴۶۴۰،۴۹۷۹،۷۶۸۵)،ط:دارالحرمین،والبیھقی فی شعب الإیمان:۵؍۲۹۷(۳۴۵۶،۳۴۵۸)،ط:مکبۃ الرشد، وابن حبان فی صحیحہ:۸؍۳۹۶،(۳۶۳۴)،ط:مؤسسۃ الرسالۃ،والنسائی فی السنن الکبری:۳؍۲۳۹(۲۸۷۵،۲۸۷۶،۲۸۷۷،۲۸۷۸،۲۸۷۹)،ط:مؤسسۃ الرسالۃ،و عبدالرزاق الصنعانی فی مصنفہ:۴؍۳۱۵(۷۹۱۸،۷۹۲۱)،ط:المکتب الإسلامی،وابن ماجۃ فی سننہ :۱؍۵۴۷(۱۷۱۶)،ط:دارإحیاء التراث العربی،وأبوداؤد فی سننہ:۲؍۳۴۷(۲۴۳۳)،ط:المکتبۃ العصریۃ

ترجمہ:

’’حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمار ہوں گے‘‘۔

حدیث مبارکہ میں رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے پر پورا سال ثواب کی وجہ ’’صحیح ابن خزیمہ ‘‘ کی ایک روایت میں ہے۔

عن ثوبان، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «صيام رمضان بعشرة أشهر، وصيام الستة أيام بشهرين، فذلك صيام السنة» ، يعني رمضان وستة أيام بعده

(صحیح ابن خزیمہ،حدیث نمبر: ۲۱۱۵،ج:۳،ص:۲۹۸،ط:المکتب الإاسلامی )


ترجمہ:

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:رمضان کے روزے دس ماہ اور چھ روزے (شوال)کے دو ماہ ہیں، تو یہ پورے سال کے روزے ہوئے۔

علامہ نووی ؒ فرماتے ہیں :

ہر نیکی کاثواب دس گنا ہے ،اس حساب سے رمضان کا مہینہ دس ماہ کے قائم مقام ہوا اور شوال کے چھ روزے دو ماہ کے قائم مقام ہوئے،تو گویا ایک سال مکمل ہوگیا ، اس طرح پورا سال روزہ رکھنے کا اجر ملے گا۔(۱۵)
علامہ ابن رجب حنبلی ؒ نے شوال کے چھ روزوں کے کئی فوائد ذکر فرمائے ہیں:
۱۔ پورے سال کے روزہ رکھنے کا اجر ملتا ہے۔
۲۔قیامت کے دن فرائض میں نقص اور کمی کو نوافل سے پورا کیا جائے گا ،جیسا کہ حدیث میں آتا ہےکہ قیامت کے دن تمام اعمال میں سب سے پہلے نماز کے متعلق سوال ہوگا ،تو ہمارا پروردگار فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے، دیکھو! میرے بندہ کی نماز کامل ہے یا ناقص؟ اگر وہ کامل ہوگی تو کامل ہی لکھ دی جائے گی۔ (یعنی اس کا ثواب پورا لکھا جائے گا) اگر اس میں کچھ کمی رہ گئی ہوگی، تو اللہ فرشتوں سے فرمائے گا، دیکھو! میرے بندہ کے پاس کچھ نفل بھی ہیں؟ اگر نفل ہوں، تو میرے بندہ کے فرائض کی کمی اس کے نوافل سے پوری کر دو۔ پھر تمام اعمال کا حساب اسی طرح لیا جائے گا۔ (یعنی فرض کی کوتاہی کو نفل سے پورا کر لیا جائے گا) (۱۶)
لہذا شوال کےچھ روزے بھی نماز سے پہلے اور بعد کی سنتوں اور نوافل کی طرح ہیں،ان کے ذریعے اللہ تعالی رمضان المبارک کے روزوں کےنقص اور کمی کو پورا کردیں گے ۔
۳۔رمضان کے بعد شوال کےروزے رکھنا ،اس بات کی دلیل اور علامت ہےکہ رمضان کے فرض روزے قبول کرلیے گئے۔احادیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالی جب کسی بندے کے نیک عمل کو قبول فرماتے ہیں ،تو اس کو مزید نیک عمل کی توفیق عطا فرماتے ہیں ۔ اس لیے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی کرنا ،پہلی نیکی کے قبولیت کی علامت ہے۔
۴۔اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو صومِ رمضان کی ادائیگی کی نعمت وتوفیق پالینے پر ذکرِ الٰہی وتکبیر وتسبیح وغیرہ سے اپنی شکرگزاری کا حکم فرمایا ہے۔
(شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَہِدَ مِنکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَن کَانَ مَرِیْضاً أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ أَیَّامٍ أُخَرَ یُرِیْدُ اللّہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُواْ الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُواْ اللّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ)
(بقرہ، :۱۸۵)

ترجمہ:

’’ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجوانسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اورحق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں، لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا، اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اورجس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو او شکرگزار بنو۔ ‘‘
لہٰذا رمضان کی توفیق پالینے، اورگناہوں کی مغفرت پر شکرگزاری میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے بعد چند روزے رکھے جائیں۔ حضرت وہیب بن الوردرحمہ اللہ سے اگر کسی نیکی پر مرتب ہونے والے ثواب کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو فرماتے: نیک عمل کے اجر وثواب کے بارے میں مت پوچھو، بلکہ یہ جاننے کی کوشش کرو کہ اس عمل کی ادائیگی پر شکریہ کیسے ادا کیا جائے کہ رحمن ورحیم رب نے تمہیں اس کی توفیق عطا فرمائی۔(۱۷)

خلاصہ کلام:

۱۔ شوال کے چھ روزےرکھنا مستحب ہے،چونکہ رمضان کے ساتھ ساتھ ان چھ روزوں کی وجہ سے پورے سال کے روزوں کا ثواب ملتاہے،اس لیے ان روزوں کا اہتمام کرناچاہیے۔
۲۔یہ روزے فرض یا واجب نہیں ہیں، اگر کوئی نہیں رکھتا ہے، تو گناہ گار نہیں ہوگا،لہذا اگر کوئی روزہ نہ رکھے، تو اسے ملامت کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے، کیونکہ یہ مستحب روزہ ہے، جسے رکھنے پر ثواب ہے اور نہ رکھنے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
۳۔شوال کا پہلا دن(عید کا دن) چھوڑ کر اس مہینے کے اندر کسی بھی وقت یہ روزے رکھے جاسکتے ہیں، مسلسل یا متفرق، دونوں صورتوں میں جس طرح بھی آسان ہو، رکھے جاسکتے ہیں۔(۱۸)

ماہ ِ شوال کی رسومات وبدعات
۱۔یکم شوال (عید کےدن) فوتگی والے گھر جانا:

بعض علاقوں میں جب کسی گھر میں فوتگی ہوتی ہے ، تو اس کی وفات کے بعدعزیز و اقارب پہلی عید و بقرعید پرمیت کے گھر پہنچنا فرض سمجھتے ہیں،اور وہا ں جاکر تعزیت کرتے ہیں ،چاہے انتقال ہوئے مہینوں گذر چکے ہوں۔
اس رسم میں کئی خرابیاں ہیں:
۱۔ تعزیت تین دن کے اندر اندر ایک مرتبہ کرنا سنت ہے ،لہذا جب ایک مرتبہ تعزیت کی جاچکی ہے،اب عید کے دن دوبارہ تعزیت کرنا سنت کے خلاف ہے ۔
۲۔ شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
۳۔عید کا دن خوشی کادن ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے مہمان نوازی کا دن ہے ،اس دن غم کو تازہ کرکے عید کی خوشی کوغم میں تبدیل کرنا انتہائی مکروہ اور خلاف ِ شریعت رسم ہے۔
لہذا اس بری رسم اور بدعت سیئہ سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔(۱۹)

۲۔فوتگی والے گھر میں سوگ کا سماں :

بعض علاقوں میں کسی کے انتقال کے بعد اس کی پہلی عید پر فوتگی والے گھرمیں سوگ کا سماں ہوتا ہے، اس گھر کے افراد عید کے دن خوشی منانے،اچھےکپڑےپہننےکوبرا سمجھتے ہیں۔یہ محض خود ساختہ رسم ہے،کیونکہ شرعی اعتبار سےسوگ کی تین دن تک اجازت ہے ،البتہ جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہو ،اس کے چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا واجب ہے۔

عن عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، أن تحد على ميت فوق ثلاث، إلا على زوجها

(صحیح مسلم، حدیث نمبر:۱۴۹۱،ج:۲، ص:۱۱۲۷،ط: دارإحیاء التراث العربی)

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی عورت کے لئے ،جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے۔

عن زينب بنت أبي سلمة، قالت: لما أتى أم حبيبة نعي أبي سفيان، دعت في اليوم الثالث بصفرة، فمسحت به ذراعيها، وعارضيها، وقالت: كنت عن هذا غنية، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، أن تحد فوق ثلاث، إلا على زوج، فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرا»

(صحیح مسلم، حدیث نمبر:۱۴۹۱۸۶،ج:۲، ص:۱۱۲۶،ط: دارإحیاء التراث العربی)

ترجمہ:

حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو(ان کے والد)حضرت ابوسفیان کی وفات کی خبر آئی، تو حضرت ام حبیبہ ؓ نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوا کر اپنی کلائیوں اور اپنے رخساروں پر لگائی اور فرمایا:مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی، میں نے نبی ﷺ سے سنا :آپ ﷺ فرماتے تھے :کسی عورت کے لئے ،جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو ،حلال نہیں کہ وہ اپنی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند پر کہ اس پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کر ے گی۔
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ پہلی عید کے موقع پر مرحوم کے پسماندگان کا سوگ مناناایک خود ساختہ رسم ہے،جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے،لہذا س سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۳۔عید کے دن قبرستان جانا:


بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ عید کے دن نمازِعید کےفوراًبعد قبرستان جانے کو ضروری خیال کیا جاتاہےاور اس دن قبروں کی زیارت نہ کرنے والوں پر طعن کی جاتی ہے،یہ بدعت اورناجائز ہےجس کو ترک کرنا لازم ہے،تاہم اگر اس کا التزام نہ کیا جائےاور اسے سنت اور ضروری نہ سمجھاجائےتو ٖ عید کے دن قبرستان جاناجائزہے۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
’’عید کادن مسرت کادن ہوتاہے،بسااوقات مسرت میں لگ کر آخرت سے غفلت ہوجاتی ہے،اورزیارت قبورسے آخرت یادآتی ہے،اس لیے اگرکوئی شخص عیدکے دن زیارتِ قبورکرے تومناسب ہے،کچھ مضائقہ نہیں،لیکن اس کاالتزام خواہ عملاً ہی سہی، جس سے دوسروں کویہ شبہ ہوکہ یہ چیزلازمی اورضروری ہے، درست نہیں۔نیزاگرکوئی شخص اس دن زیارت قبورنہ کرے، تواس پر طعن کرنایااس کوحقیرسمجھنا درست نہیں،اس کی احتیاط لازم ہے۔

(فتاویٰ محمودیہ ،ج:۹،ص:۲۰۱، ط:فاروقیہ )

لہذا عید کے دن قبرستان جانےکاالتزام کرنا،ہرسال اسے لازم اورضروری سمجھادرست نہیں ہے۔

۴۔ماہِ شوال میں نکاح کو منحوس سمجھنا:

بعض لوگ دو عید وں کے درمیان اور شوال کے مہینے میں نکاح اورشادی کو منحوس سمجھتے ہیں ۔
شوال میں نکاح منحوس سمجھنے کی وجہ:
۱۔یہ زمانہ جہالیت میں عربوں کا خیال تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب کہتے کہ ’’شوال ‘‘ كا نام’’شوال ‘‘ اس ليے ركھا گيا كہ اس مہینے میں اوٹنى كا دودھ كم اور ختم ہو جاتا تھا،اور اونٹنی اونٹ سے دور ہوجاتی تھی، اس وجہ سے عرب اس ماہ ميں عقد نكاح کو منحوس سمجھتے تھے، اورکہتے کہ منكوحہ عورت بالكل اسى طرح خاوند سے دور اور رك جاتى ہے، جس طرح اونٹنى اونٹ سے دور رہتى اور اپنى دم مارتى ہے۔(۲۰)
۲۔اور ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ شوال میں طاعون پھیل گیا تھا،جس میں بہت سی دلہنیں مرگئی تھیں،اس لئے زمانہ جہالیت میں لوگ شوال کے مہینے میں نکاح منحوس سمجھنے لگے تھے اور اس میں شادی نہیں کرتے تھے۔(۲۱)
واضح رہے کہ شریعت میں سال کے بارہ مہینوں اور دنوں میں کوئی مہینہ یا دن ایسا نہیں ،جس میں نکاح کی تقریب مکروہ اور ناپسندیدہ ہو یا اس میں نکاح منحوس اور شادی ناکام ہوجاتی ہو۔
جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس ماہ میں نکاح کیا اور اسی ماہ میں رخصتی فرماکر جہالیت کے باطل خیال و نظریہ کا رد کیا۔
عن عائشة قالت: «تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم في شوال، وأدخلت عليه في شوال، فأي نسائه كان أحظى عنده مني؟ فكانت تستحب أن تدخل نساءها في شوال»

(مسند احمد،حدیث نمبر:۲۴۲۷۲،ج:۴۰،ص:۳۱۹،ط:مؤسسۃ الرسالۃ)(۲۲)

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے :جناب رسول اللہ ﷺ نے ميرے ساتھ شوال ميں نكاح كيا، اور ميرى رخصتى بھى شوال ميں ہوئى، نبى كريم ﷺكے نزديك رسول اللہ ﷺ کی كونسى بیوی مجھ سے زيادہ خوش قسمت تھى ؟ "

امام نووی اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:


اہل عرب شوال میں نکاح کرنے کو یا شوال میں رخصتی کرا کر دلہن گھر لانے کو برا سمجھتے تھے، اور بدفالی لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا مقصد اسی غلط خیال کی تردید ہے کہ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی، تو تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ خوش نصیب میں کیوں کر ہوتی؟(۲3)

علامہ ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جناب رسول اللہ ﷺكا شوال ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا کو بیاہ لانا، ان لوگوں كے وہم اور اعتقاد كا رد ہے، جو دونوں عيدوں كے درميان عورت سے رخصتى ناپسند كرتے ہيں كہ كہيں ان ميں جدائى ہى نہ ہو جائے، حالانكہ ایسی کوئی بات نہيں ہے۔(۲۴)

خلاصہ کلام :

۱۔شوال کے مہینے میں نکاح کو منحوس سمجھنا باطل نظریہ ہے،جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
۲۔اس خیال کے باطل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نکاح ایک اہم عبادت ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت اور طریقہ ہے،(۲۵) نکاح کے ذریعہ آدمی بدنظری سے بچ جاتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت ہوجاتی ہے،(۲۶)اور حدیث شریف میں ہے کہ ”بندہ نکاح کرکے اپنا آدھا دین محفوظ کر لیتا ہے‘‘۔(۲۷)سوچنے کی بات ہے کہ جب نکاح اتنی اہم عبادت ہے، تو اس سے کیسے منع کیاجاسکتا ہے؟
اسی وجہ سے علمائے کرام نے شوال کے مہینے میں نکاح کو مستحب قراردیا ،تاکہ ایک باطل اور غلط عقیدہ کی تردید ہو۔(۲۸)

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اس عظیم الشان مہینے کی برکتوں سے خوب مالا مال فرمائے، اور اس ماہ مبارک میں بدعات و خرافات سے بچائے اور اس مہینے کی قدر کرنے اور اس میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین





Print Views: 63

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com