عنوان: استعمال کیلئے لیا ہوا گودام آگے کسی اور کو کرایہ پر دینا (10001-No)

سوال: ایک شخص نے مجھے ایک گودام عمومی اجازت کے ساتھ دیا ہے کہ آپ نے استعمال کرنا ہو آپ کریں یا جس کو دینا چاہیں دے دیں، لیکن یہ شخص میرے علاوہ باقی لوگوں کو یہ گودام کرایہ پر دیتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں اس اجازت کے ہونے کے بعد اس گودام کو کسی کو کرایہ پر دے سکتا ہوں کہ کرایہ خود رکھوں اور اس گودام کے مالک کو یہ نہ بتاؤں کہ میں یہ چیز آپ کے گودام میں کرایہ خود وصول کر کے رکھوا رہا ہوں؟

جواب: استعمال کیلئے (عاریت پر) لی ہوئی ہوئی چیز کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر آگے کسی کو کرائے پر دینا شرعا درست نہیں ہے، البتہ اگر مالک کی اجازت ہو تو پھر دے سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مجلة الاحکام العدلیة: (158/1، ط: نور محمد)
(المادة 823) ليس للمستعير أن يؤجر العارية ولا أن يرهنها بدون إذن المعير.

الدر المختار مع رد المحتار: (679/5، ط: دار الفکر)
(ولا تؤجر ولا ترهن) لأن الشيء لا يتضمن ما فوقه (كالوديعة) فإنها لا تؤجر، ولا ترهن۔

الفتاوی الھندیة: (364/4، ط: دار الفکر)
ليس للمستعير أن يؤاجر المستعار من غيره، وإن كانت الإعارة تمليكا عندنا، كذا في الظهيرية.

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 384 Dec 01, 2022
estemal keliye liya hua godam / godawn agay kisi or ko karaya / rent per / par dena

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.