سوال:
السلام علیکم! کراچی کی مارکیٹ میں پنجاب یا کسی اور شہر سے مال لوڈ کر کے جو ٹرالے اور بڑی گاڑیاں آتی ہیں، ان کا کرایہ جس کمپنی میں مال اترتا ہے تو دو چار دن میں ٹرانسپوٹر کے اکاونٹ میں ڈلوادیتے ہیں اور دوسرا طریقہ بروکر حضرات کا ہے جو کرایا نقد ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں لیکن ان کی شرط یہ ہوتی ہے کہ ہم آپ کے کرائے سے 5۔2 فیصد کٹوتی کر کے باقی کرایی ادا کردیں گے اور پھر ڈرائیور سے بلٹی لے کر کمپنی سے پورا کرایہ وصول کرتے ہیں۔معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا بروکر حضرات کا یہ عمل اور آمدنی درست ہے؟
جواب: سوال میں لکھی گئی تفصیل کے مطابق بروکر ٹرانسپوٹر کا کرایہ جو کہ کمپنی کے ذمّہ ہے، وہ کچھ فیصد رقم کٹوتی کر کے ٹرانسپوٹر کو ادا کردیتے ہیں، پھر اس کرایہ کی رسید (بلٹی) کے ذریعہ کرایہ کی پوری رقم کمپنی سے وصول کر لیتے ہیں، گویا کہ ٹرانسپوٹر وہ رقم جو کمپنی کے ذمّہ قرض ہے، وہ بروکر کو بیچ رہے ہوتے ہیں، جبکہ قرض بیچنا جائز نہیں ہے، نیز بروکر کم رقم ٹرانسپوٹر کو دیتا ہے اور زیادہ رقم وصول کرتا ہے تو یہ معاملہ سود کے زمرے میں بھی آتا ہے، اس لئے اس تفصیل کے ساتھ بروکر حضرات کا یہ عمل جائز نہیں ہے، نیز اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی درست نہیں ہے۔
البتہ اس معاملہ کے جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ٹرانسپوٹر فیکٹری سے اپنا کرایہ وصول کرنے کیلے بروکر کو وکیل بنادے اور اس وکالت کا کچھ متعّین معاوضہ بھی طے کرلیں، اس کے بعد الگ اور نئے معاملے کے ذریعہ بروکر سے اپنے کرایہ کے بقدر رقم قرض لے لے، اور بروکر کو اس بات کا اختیار دیدے کہ جب فیکٹری سے میرا کرایہ وصول ہوجائے تو آپ اس کرایہ کی رقم سے اپنا قرض وصول کرلیں، اس طرح یہ دوالگ الگ معاملات ہو جائیں گے، اور اس طرح دو الگ الگ معاملات کرنا جائز ہے۔
واضح رہے کہ ایسی صورت میں اگر بروکر کو فیکٹری سے کرایہ وصول نہ ہو، تب بھی قرض کے بقدر لی رقم واپس کرنا ٹرانسپوٹر پر لازم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع - (5 / 148)
ولا ينعقد بيع الدين من غير من عليه الدين لأن الدين إما أن يكون عبارة عن مال حكمي في الذمة وإما أن يكون عبارة عن فعل تمليك المال وتسليمه وكل ذلك غير مقدور التسليم في حق البائع
بحوث في قضايا فقهية معاصرة - (1 / 24)
’’وإن خصم الكمبيالة بهذا الشكل غير جائز شرعا، إما لكونه بيع الدين من غير من عليه الدين، أو لأنه من قبيل بيع النقود بالنقود متفاضلة ومؤجلة، وحرمته منصوصة في أحاديث ربا الفضل.
ولكن هذه المعاملة يمكن تصحيحها بتغيير طريقها وذلك أن يوكل صاحب الكمبيالة البنك باستيفاء دينه من المشتري (وهو مصدر الكمبيالة) ويدفع إليه أجرة على ذلك، ثم يستقرض منه مبلغ الكمبيالة، ويأذن له أن يستوفي هذا القرض مما يقبض من المشتري بعد نضج الكمبيالة، فتكون هناك معاملتان مستقلتان: الأولى معاملة التوكيل باستيفاء الدين بالأجرة المعينة، والثانية: معاملة الاستقراض من البنك، والإذن باستيفاء القرض من الدين المرجو حصوله بعد نضج الكمبيالة، فتصح كلتا المعاملتين على أسس شرعية، أما الأولى، فلكونها توكيلا بالأجرة، وذلك جائز، وأما الثانية، فلكونها استقراضا من غير شرط زيادة، وهو جائز أيضا….
کذا فی تبویب الفتاویٰ جامعہ دارالعلوم کراچی: رقم الفتوی:(49/1574)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی