resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کمپنی کا اپنے ملازمین کو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ چھٹیوں نہ دینا

(33595-No)

سوال: حکومت کمپنیوں کو اس بات کا پابند کرتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو سالانہ مختلف نوعیت کی چھٹیاں دیں، مثلاً بیماری کی دس چھٹیاں، سالانہ دس چھٹیاں وغیرہ، بعض اوقات کاروبار کی نوعیت یا کسی اور وجہ سے کوئی ادارہ اس حکومتی قانون کی پابندی نہیں کرتااور ملازم بھی راضی ہوتا ہے۔
اس قانون کی خلاف ورزی کا کیا حکم ہے اور کیا ملازم کی رضامندی کی وجہ سے اس قانون کی خلاف ورزی درست ہے؟ نیز اگر کسی نے اب تک اپنے ملازم کو یہ چھٹیاں نہ دی ہوں اور چھٹی کرنے پر تنخواہ بھی کاٹی ہو تا کیا یہ کٹوتی کرنا جائز ہوگا اور مالک کے لئے یہ پیسے حلال ہوں گے؟

جواب: واضح رہے کہ ایسے ملکی قوانین جو قرآن وسنت کی تعلیمات کے منافی نہ ہوں، اور ملک و ملّت کی مصلت اور مفاد پر مبنی ہوں تو ایسے جائز قوانین پر عمل کرنا شرعاً لازم ہے، لہذا جن اداروں پر مذکورہ حکومتی قانون کا اطلاق ہوتا ہو، ان کے لیے اس قانون پر عمل کرنا شرعاً لازم ہوگا۔ تاہم اگر کوئی ادارہ ملازم کے ساتھ اس کی رضامندی سے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ چھٹیوں سے کم چھٹیاں دینے پر معاہدہ کرلیتا ہے تو ایسے معاہدہ کو شرعاً فاسد نہیں کہا جاسکتا، لہذا اگر معاہدہ کے مطابق پوری چٹھیاں دی گئی تھیں اور ملازم نے اس سے اضافی چھٹیاں کی ہوں تو حسب معاہدہ چھٹیوں کے بقدر تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم مالک کے لیے حرام نہیں ہوگی، تاہم چھٹیوں کے سلسلے میں ملکی جائز قانون لاگو ہونے کی صورت میں اس کی خلاف ورزی سے بچنا بہرحال ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تکملة فتح الملهم: (323/3، ط: أشرفیه)
ان المسلم یجب علیه أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباحة؛ فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرته، وإن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابه؛ لأن اللہ سبحانه وتعالی قال: { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]، فلو کان المراد من إطاعة أولی الأمر إطاعتھم فی الواجبات الشرعیة فحسب، لما کان ھناك داعٍ لاستقلالھم بالذکر فی ھذہ الآیة؛ لأن طاعتھم فی الواجبات الشرعیة لیست إطاعة أولی الأمر، وإنما ھو إطاعة الله ورسوله، فلما أفردھم الله سبحانه بالذکر ظھر أن المراد إطاعتھم فی الأمور المباحة. ومن ھنا صرح الفقھاء بأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة.

درر الحكام: (1/57، المقالة الثانیة فی بیان قواعد الکلیة، ط: دار الجیل)
(المادة ٥٨) :التصرف على الرغبة منوط بالمصلحة.هذه القاعدة مأخوذة من قاعدة " تصرف القاضي فيما له فعله من أموال الناس والأوقاف مقيد بالمصلحة " أي أن تصرف الراعي في أمور الرعية يجب أن يكون مبنيا على المصلحة، وما لم يكن كذلك لا يكون صحيحا. والرعية هنا: هي عموم الناس الذين هم تحت ولاية الولي.....والحاصل يجب أن يكون تصرف السلطان والقاضي والوالي والوصي والمتولي والولي مقرونا بالمصلحة وإلا فهو غير صحيح ولا جائز.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment