resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: آرڈر سے زائد سامان وصول ہونے پر اس کو ضبط کرنے کی پالیسی کا شرعی حکم

(38752-No)

سوال: زید ایک کمپنی میں ملازم ہے، کمپنی کچھ سامان چھوٹی کمپنیوں سے خریدتی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کارخانہ میں سپلائی وصول ہوتی ہے۔ کمپنی پالیسی ہے اور جنرل مینیجر اور ایڈمن کے دستخط شدہ نوٹس بھی جاری ہوا کہ اگر کسی چھوٹی کمپنی کا سامان (جو سپلائی کی صورت میں کارخانہ میں وصول ہوتا ہے ) چالان پر لکھی گئی تعداد سے زیادہ وصول ہوا تو وہ ضبط کر لیا جائے گا، لہٰذا اپنی فیکٹری سے چالان کے مطابق چیک کر کے تسلی سے سامان کی سپلائی لائیں بصورتِ دیگر زائد سامان ضبط ہوگا۔
اب اس صورتحال میں ہدایت یوں ہے کہ جس کمپنی کا یہ مسئلہ نکل آئے، وہ جنرل مینیجر سے بات کر کے اپنا زائد سامان واپس لی سکتی ہے، لیکن سپلائی وصول کرنے والے اسٹور کو یہ اختیار نہیں کہ وہ خود سے زائد سامان واپس کرے۔ کچھ لوگ احکامِ بالا سے بات کر کے اپنا سامان چھڑا لیتے ہیں اور کچھ بات ہی نہیں کرتے۔
اسٹور ذمہ دار کی طرف سے جنرل مینیجر کو آمنے سامنے سمجھانے کی کوشش کی جا چکی ہے کہ اس نوٹس کو ختم کر دیں لیکن کچھ نہیں بدلا، اب اس صورتحال میں کیا اسٹور میں موجود ذمہ دار گناہ گار ہوگا یا اس معاملے کا بوجھ کارخانہ کے جنرل مینیجر یا ایڈمن کے سر ہے؟ براہ کرم شرعی رہنمائی کریں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں کمپنی کی مذکورہ بالا پالیسی (کہ چالان پر لکھی گئی تعداد سے زیادہ مال وصول ہونے پر اس کو ضبط کر لیا جاتا ہے )شرعاًجائز نہیں، ایسی صورت میں کمپنی کے ذمّہ لازم ہے کہ بیچنے والے کی طرف سے اگر اضافی سامان آجائے تو چونکہ سامان کا مالک معلوم ہے، اس لئے اس سے رابطہ کرکے اسے وہ سامان واپس کیا جائے یا باہمی رضامندی سے سامان کی کوئی قیمت مقرر کرکے وہ رقم اسے بھیجی جائے یا باہمی رضامندی سے اتنی مالیت کے بقدر اگلے آرڈر میں اس کا تصفیہ (adjustment) کیا جائے یا کوئی اور جائز صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے، لیکن اس کا ضبط کرنا جائز نہیں ہے۔ جہاں تک اسٹور والے کا تعلق ہے تو چالان پر لکھی گئی تعداد سے زائد سامان وصول ہونے پر ذمّہ دار افراد کو آگاہ کرنے سے اس کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی اور وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع الرد: 542/4، ط: سعید)
وإن باع صبرةً على أنها مائة قفيز بمائة درهم وهي أقل أو أكثر أخذ) المشتري (الأقل بحصته) إن شاء (أو فسخ).... (وما زاد للبائع) لوقوع العقد على قدر معين

شرح المجلة: (المادۃ: 97، 51/1، ط: رشیدية)
لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي و إن أخذ ولو علی ظن أنه ملکه وجب علیه ردہ عینا إن کا ن قائما وإلا فیضمن قیمته إن کان قیمیا.

الاشباہ و النظائر: (243/1، ط: دار الکتب العلمیة)
لا يجوز التصرف في مال غيره بغير إذنه.

درر الحكام فی شرح مجلۃ الاحكام(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة: ٩٠، ط: دار الجيل)
"‌إذا ‌اجتمع ‌المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر هذه القاعدة مأخوذة من الأشباه. ويفهم منها أنه ‌إذا ‌اجتمع ‌المباشر أي عامل الشيء وفاعله بالذات مع المتسبب وهو الفاعل للسبب المفضي لوقوع ذلك الشيء ولم يكن السبب ما يؤدي إلى النتيجة السيئة إذا هو لم يتبع بفعل فاعل آخر، يضاف الحكم الذي يترتب على الفعل إلى الفاعل المباشر دون المتسبب."

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment