عنوان: کیا واٹس ایپ (WhatsApp) یا براڈ کاسٹ (Broadcast) کے ذریعے آئے ہوئے سلام کا جواب دینا واجب ہے؟ (10144-No)

سوال: اگر کوئی شخص کسی WhatsApp گروپ یا براڈ کاسٹ کے ذریعے سلام کا میسج کرتا ہے تو کیا گروپ کے تمام لوگوں کو اس سلام کا جواب دینا لازم قرار دیا جائے گا؟

جواب: واضح رہے کہ واٹس ایپ (WhatsApp)، میسینجر (Messenger) یا کسی اور ایپ (App) وغیرہ کے ذریعے Text یا Voice msg میں اگر کسی کو مخاطب کر کے سلام کیا گیا ہو تو پڑھنے یا سننے کے بعد سلام کا فوری طور پر زبان سے جواب دینا واجب ہے، جبکہ میسج کے ذریعہ جواب دینا مستحب ہے، البتہ اگر ان میسیجز میں کسی کو مخاطب کیے بغیر عمومی سلام کیا گیا ہو تو ایسے سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے۔
اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر براڈ کاسٹنگ کے ذریعے خاص آپ کو سلام کرنا مقصود ہو تو اس کا جواب دینا واجب ہے اور اگر براڈ کاسٹنگ کے ذریعے عمومی پیغامات، مضامین، تحریرات یا تقریرات بھیجی جارہی ہوں اور ان میں سلام کا ذکر ہو تو ایسے سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (415/6، ط: دار الفکر)

(قوله ويجب رد جواب كتاب التحية) لأن الكتاب من الغائب بمنزلة الخطاب من الحاضر مجتبى والناس عنه غافلون ط. أقول: المتبادر من هذا أن المراد رد سلام الكتاب لا رد الكتاب. لكن في الجامع الصغير للسيوطي رد جواب الكتاب حق كرد السلام قال شارحه المناوي: أي إذا كتب لك رجل بالسلام في كتاب ووصل إليك وجب عليك الرد باللفظ أو بالمراسلة وبه صرح جمع شافعية؛ وهو مذهب ابن عباس وقال النووي: ولو أتاه شخص بسلام من شخص أي في ورقة وجب الرد فورا؛ ويستحب أن يرد على المبلغ كما أخرجه النسائي.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 517 Jan 10, 2023
kia what's app ya broadcast k zarye aaye / aai huwe salam ka jawab dena wajib hay?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.