resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والدہ کی اجازت سے بیرون ملک ملازمت کرنا

(33515-No)

سوال:
میرے والد، میں اور میرا بھائی ہم تینوں بیرونِ ملک ملازمت کرتے ہیں، میری والدہ اور بہن پاکستان میں رہتی ہیں تو کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں سعودی عرب میں ملازمت کروں یا یہ ضروری ہے کہ میں والدہ اور بہن کے ساتھ رہوں تاکہ جب انہیں گھر سے باہر جانا پڑے یا حفاظت کی ضرورت ہو تو میں ان کی مدد کر سکوں؟
میری والدہ نے مجھے ملازمت کرنے کی اجازت بھی دی ہے اور میں سال میں ایک دفعہ ان سے ملنے کے لیے جاتا ہوں، وہ بھی ہمیں ملنے آتی ہیں۔ مزید یہ کہ جب میری بہن اپنی ڈگری مکمل کر لے گی تو ان شاء اللہ 3–4 سال میں اس کی شادی ہو جائے گی اور اس کے بعد میری والدہ بھی مستقل طور پر یہاں (KSA) آجائیں گی۔
ان معلومات کی روشنی میں براہِ کرم بتائیں کہ میرے لیے یہاں رہ کر ملازمت کرنا حرام ہے، مکروہ یا شرعاً جائز ہے؟

جواب: واضح رہے کہ والدین کی خدمت اور ضروریات کا خیال رکھنا شرعاً لازم ہے، اگر ان کی ضروریات، حفاظت اور دیکھ بھال وغیرہ کا مناسب انتظام موجود ہو تو ایسی صورت میں باہر ملک جا کر جائز ملازمت کرنا شرعأ درست ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں بیٹوں کے سفر پر جانے کی وجہ سے اگر والدہ نان نفقہ یا بیماری اور ضعف کی صورت میں تیمار داری اور خدمت کے لیے اس کی محتاج نہ ہو یا ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا مناسب انتظام موجود ہو تو آپ کیلیے سعودیہ (KSA) میں کوئی جائز ملازمت کرنا ناجائز یا حرام نہیں ہوگا، خاص طور پرجب ان کی اجازت بھی شامل ہے تو پھر کراہت بھی باقی نہیں رہے گی، البتہ والدہ کے حقوق کی ادائیگی اور ضروریات کا خیال رکھنا بدستور لازم رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (الاسراء، الآية: 23)
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا o

رد المحتار: (408/6، ط: دار الفکر)
فلو في سفر تجارة أو حج لا بأس به بلا إذن الأبوين إن استغنيا عن خدمته إذ ليس فيه إبطال حقهما إلا إذا كان الطريق مخوفا كالبحر فلا يخرج إلا بإذنهما وإن استغنيا عن خدمته ولو خرج المتعلم وضيع عياله يراعى حق العيال اه

الھندیة: (366/5، ط: دار الفکر)
وقال محمد - رحمه الله تعالى - في السير الكبير إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة وكره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين ونفقتهما عليه وماله لا يفي بالزاد والراحلة ونفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه وإن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما وإن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals