resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ملازمت کے دوران کمپنی کا سامان چوری کے طور پر استعمال کرنے کے بعد اس کی تلافی کی صورت

(39803-No)

سوال: میں سعودی عرب کی ایک المونیم کی کمپنی میں چالیس سال پہلے کام کرتا تھا، میں وہاں سے کچھ المونیم کے پٹی وغیرہ چوری سے لیکر گیا تھا، اب میں شدید پشیمان ہوں، اب اس کا ازالہ کیسا کرنا ممکن ہے، میں دنیا میں ہی اس کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں، براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اوّلاً آپ کا اپنے اس فعل پر پشیمان ہونا اور اس کی تلافی کے ازالے کے لیے فکر مند رہنا ایک اچھا عمل ہے، تاہم اس کی تلافی کی صورت یہ ہے کہ سچے دل سے توبہ و استغفار کرنے کے ساتھ ساتھ ایلومینیم کی جتنی پٹیاں لی ہیں، اس کا حساب کرکے اتنی پٹیاں یا اس کی قیمت مذکورہ کمپنی کو پہنچانے کا انتظام کیا جائے، نیز لوٹاتے وقت تحفہ وغیرہ کا نام بھی اس کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، البتہ اگر کمپنی تک پہنچانے کی کوئی ممکنہ صورت نہ ہو تو کمپنی کی طرف سے اس کو صدقہ کر دیا جائے۔
تاہم اگر ادائیگی کی استطاعت نہ ہو تو کمپنی سے اپنے اس فعل پر معافی مانگنے کی کوئی صورت اختیار کی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

القرآن الکریم: (المائدۃ، الایة: 39)
فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌo

رد المحتار: (99/5، ط: دار الفکر)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه

بذل المجہود: (359/1، ط: مرکز الشیخ أبي الحسن الندوي)
یجب علیہ أن یردہ إن وجد المالک وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل ملک الأموال علی الفقراء۔

شرح الفقہ الاکبر للملا علی القاری: (بحث التوبۃ، ص: 568، ط: قدیمی)
"وإن كانت عما يتعلق بالعباد، فإن كانت من مظالم الأموال، فتتوقف صحة التوبة منها مع
ماقدمناه في حقوق الله تعالى - على الخروج عن عهدة الأموال وإرضاء الخصم في الحال والاستقبال بأن يتحلل منهم أو يردها إليهم أو إلى من يقوم مقامهم من وكيل أو وارث

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals