resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ہندو کی شادی میں شرکت کرنا اور وہاں کھانا کھانے کا حکم

(39815-No)

سوال: ‎السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! جاب میں ساتھ ایک ہندو ہے جس سے اچھی ملاقات ہے، اس نے شادی میں بلایا ہے تو کیا کسی ہندو کے یہاں شادی میں شرکت کر سکتے ہیں؟ شادی ہال میں ہے جس طرح ہمارے یہاں ہوتی ہے، شوہر کا تقاضہ ہے کہ آ پ میرے ساتھ چلو، آپ مجھے بتائیں کہ وہاں جانا اور انکا کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ بڑی مہربانی ہوگی، راہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی ہندو دوست شادی کی دعوت پر بلائے تو اس تقریب میں شرکت کرسکتے ہیں، بشرطیکہ وہاں کسی قسم کے شرکیہ اعمال، مذہبی رسومات یا شریعت کے منافی امور انجام نہ دیے جا رہے ہوں۔ نیز ایسی تقریبات میں کھانا اسی صورت میں کھایا جاسکتا ہے جب وہ کھانا حلال ہو اور غیر اللہ کے نام پر نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی الھندیة: (347/5، ط: دار الفکر)
ولا بأس بالذهاب إلى ضيافة أهل الذمة هكذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - وفي أضحية النوازل المجوسي أو النصراني إذا دعا رجلا إلى طعامه تكره الإجابة وإن قال اشتريت اللحم من السوق فإن كان الداعي نصرانيا فلا بأس به

الموسوعة الفقھیة الکویتیة: (243/45، ط: دار السلاسل)
ذهب جمهور الفقهاء إلى أنه يشترط للزوم إجابة الوليمة أن يكون الداعي إليها مسلما.
فإن كان الداعي كافرا فلا تلزم إجابته عند المالكية والشافعية والحنابلة على الصحيح من المذهب؛ لأن الإجابة للمسلم للإكرام والموالاة وتأكيد المودة والإخاء، فلا تجب على المسلم للذمي، ولأنه لا يأمن اختلاط طعامهم بالحرام والنجاسة.
ولكن تجوز إجابة الكافر. لما روى أنس أن يهوديا دعا النبي صلى الله عليه وسلم إلى خبز شعير وإهالة سنخة فأجابه.
وقال محمد بن الحسن الشيباني: لا بأس بالذهاب إلى ضيافة أهل الذمة.

کفایت المفتی:(باب الشركة في أعياد الكفار،170/13،ط:ادارہ الفاروق کراچی)

فتاویٰ رحیمیہ:(حظر و اباحت،241/10،ط: دار الاشاعت)

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals