سوال:
میں سمجھتی ہوں کہ شریعت عدل اور آسانی کے ساتھ نازل کی گئی ہے، لیکن میری تشویش یہ ہے کہ یہ آسانی اکثر صرف والدین کے حق میں لاگو ہوتی ہے، جبکہ غفلت یا ناانصافی کا پورا بوجھ صرف بچے کو اُٹھانا پڑتا ہے۔ یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ شریعت کا مقصد تکلیف دور کرنا اور انصاف قائم کرنا ہے، جبکہ اسی شریعت کے نام پر بچوں کو تنگ، بھیڑ بھاڑ اور نظر انداز ماحول میں پیدا ہونے دیا جاتا ہے، جہاں انہیں تعلیم کا سکون، صحت کی سہولتیں اور بنیادی انسانی عزت بھی نہیں ملتی اور عام جواب صرف یہ دیا جاتا ہے کہ “انہیں آخرت میں اجر ملے گا”، بجائے اس کے کہ نقصان کو اصل میں روکا جائے؟
اگر شریعت نکاح اور تعددِ ازدواج سے پہلے مالی اور نفسیاتی استطاعت کو ضروری قرار دیتی ہے تاکہ بیوی کے حقوق محفوظ رہیں جو خود قبول یا انکار کرنے کا حق رکھتی ہے تو یہی شرط بچے کی پیدائش سے پہلے کیوں ضروری نہیں سمجھی جاتی، حالانکہ بچہ سب سے کمزور فریق ہوتا ہے اور اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا؟
ہمارے مسلم معاشروں میں لاکھوں بچے گنجان گھروں میں رہتے ہیں، جہاں تمام بہن بھائی ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں، جبکہ تحقیق واضح طور پر بتاتی ہے کہ بچے کو تعلیم، نیند اور ذہنی سکون کے لیے الگ جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سے بچے کمزور تعلیم، ناکافی خوراک اور غیر مناسب علاج کا شکار ہیں، صرف اس لیے کہ والدین نے اپنی حقیقی صلاحیت کے بغیر بڑی فیملی کا خواہش مند ہونا ضروری سمجھا۔ بچوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صبر کریں، حالانکہ شریعت دوسری بہت سی چیزوں میں صرف نیت پر نہیں بلکہ حقیقی استطاعت پر زور دیتی ہے۔
جہاں تک اس آیت کا تعلق ہے کہ: “ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی”، تو یہ بات واضح ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر نئے بچے کے ساتھ گھر خود بخود بڑا ہو جائے گا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سب اسی تنگی میں جیتے رہیں گے۔
میرا سیدھا سوال یہ ہے کہ معاصر شریعت کے مقاصد میں یہ کیوں شامل نہیں کیا جاتا کہ بچے کی پیدائش سے پہلے قانونی یا فقہی اصول بنائے جائیں، کم از کم مناسب گھر، تعلیم اور صحت کے حوالے سے جس طرح نکاح سے پہلے شرائط رکھی گئی ہیں تاکہ دونوں فریقوں کے حقوق محفوظ رہیں؟
میں ایک واضح فقہی جواب چاہتی ہوں جس میں دلائل اور مقاصدِ شریعت بیان ہوں، عام باتیں جیسے “اللہ پر توکل کرو” یا “زیادہ اولاد کی فضیلت” نہیں، کیونکہ میرا سوال موجودہ دور میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے شریعت کے انصاف کے بارے میں ہے، نہ کہ اولاد کی فضیلت یا تقدیر کے بارے میں۔
جواب: واضح رہے کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے، اور اس کا ہر ایک حکم عدل سے بھرا ہوا ہے، لیکن اس دور کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اسلامی احکامات کو مکمل تفصیلات کے ساتھ جاننے کے بجائے کسی ایک مسئلے کا حکم سطحی طور پر دیکھ کر اپنی ناقص سمجھ اور کم علمی کی بنیاد پر اسے عدل کے ترازو میں تول کر چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ اس رویّے پر اگر غور کیا جائے تو یہ انتہائی افسوسناک اور مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔
سوال میں بچوں کے حقوق، تعلیم اور تربیت کے متعلق جو باتیں ذکر کی گئی ہیں، وہ بھی بچوں کے حقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سے مکمل باخبر نہ ہونے کی وجہ سے ہیں، حالانکہ اسلام نے بچوں کے حقوق، تعلیم اور تربیت کا ایسا زبردست نظام پیش کیا ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو بچہ دنیوی اور اخروی ہر اعتبار سے کامیاب رہے گا۔ چنانچہ مشکوٰۃ المصابیح کی ایک مختصر مگر جامع حدیث میں اس کا نہایت عمدہ نقشہ کھینچتے ہوئے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جس کسی کے ہاں بچے کی پیدائش ہو جائے تو اس کی ذمّہ داری ہے کہ وہ اس کا خوبصورت نام رکھے، اور اسے ادب سکھائے، (یعنی اس کی دنیا اور آخرت کو کامیاب بنانے کے لیے اسے شرعی احکام، معاشرت اور زندگی گزارنے کے بہترین طریقوں کی تعلیم دلائے) اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کا نکاح کر دے۔" (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر: 3137)
مذکورہ حدیث پر اگر غور کیا جائے تو اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام نے بچے کی پیدائش کے بعد اس کی تربیت، تعلیم اور اس کے لیے خوشگوار ماحول اور درست طریقے اپنانے کو والدین کی ذمّہ داری قرار دیا ہے، لہٰذا اسلامی تعلیمات سے واقفیت حاصل کرنے کے بجائے ہمارے ہاں کے اسلام کے بظاہر نام لیوا مختلف معاشروں اور علاقوں کے کلچر اور وہاں بچوں کے حقوق کی عدم رعایت کو حقیقی اسلام کے گلے ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔
بہرحال! یہ تو بچوں کے حقوق اور تعلیم و تربیت کے متعلق صرف ایک حدیث ذکر کی گئی ہے، ورنہ اگر اس موضوع پر اسلامی تعلیمات کا باقاعدہ مطالعہ کیا جائے تو عقلیں حیران رہ جائیں کہ اسلام نے بچوں کے حقوق کا کس قدر باریکی کے ساتھ خیال رکھا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
القرآن الکریم: ( التحریم، الآیة: 6)
یَٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ قُوۤا۟ أَنفُسَكُمۡ وَأَهۡلِیكُمۡ نَارࣰا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلۡحِجَارَةُ عَلَیۡهَا مَلَٰۤىِٕكَةٌ غِلَاظࣱ شِدَادࣱ لَّا یَعۡصُونَ ٱللَّهَ مَاۤ أَمَرَهُمۡ
مشكاة المصابيح: (باب الولی فی النکاح واستئذان المراة، الفصل الثالث، رقم الحدیث: 3137، ط: المكتبة البشریٰ)
وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی