resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ماں سے اونچی آواز میں بات کرنا

(34600-No)

سوال: میرے گھر میں ایک لڑائی ہو گئی تھی، اس دوران میں نے امی سے اونچی آواز میں بات ضرور کی، لیکن کوئی ایسا جملہ نہیں کہا جس پر وہ ناراض ہوں۔ اصل میں میں نے اپنے بھائی کی شکایت کی تھی، کیونکہ وہ مجھے برے الفاظ سے پکارتا ہے جو اخلاقی طور پر ناجائز ہیں۔ امی نے کہا ہے کہ وہ مجھ سے رشتہ ختم کر چکی ہیں، اب میں کیا کروں؟ بغیر کسی بڑی غلطی کے میرے ساتھ یہ سب ہوتا رہتا ہے، میری امی ہمیشہ مجھ ہی میں برائی نکالتی ہیں، جبکہ بھائی مجھے مارتا بھی ہے اور ناجائز الفاظ سے بھی پکارتا ہے اور اس سب کے باوجود میرے والد کچھ نہیں کہتے۔ براہِ کرم ضرور جواب دیجیے گا، میں بہت پریشان ہوں، شاید آپ کے جواب سے میری کچھ پریشانی کم ہو جائے۔

جواب: اگر آپ کا بھائی آپ کو بُرے الفاظ سے پکارتا ہے اور بلا وجہ شرعی مارتا ہے تو یہ اس کی طرف سے سخت زیادتی اور ظلم ہے، والدین کو چاہیے کہ وہ آپ کے بھائی کو سمجھائیں کہ وہ آپ پر ظلم نہ کرے، تاہم آپ کے لیے والدین میں سے کسی کی بے ادبی کرنا یا ان سے اونچی آواز میں بات کرنا درست نہیں ہے، قرآن شریف میں والدین کو اُف تک کہنے سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا اس صورت میں آپ کو چاہیے کہ والدہ کو راضی کریں اور منانے کی کوشش کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (الإسراء، الآيتان: ٢٣-٢٤)
﴿ وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ● وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ●﴾

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals