resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والدین کے طعن و تشنیع کی وجہ سے گھر چھوڑنا

(33558-No)

سوال: امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں ایک ایسے معاملے میں آپ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں جو مجھے گہرے طور پر پریشان کر رہا ہے۔
حال ہی میں میں نے بنگلہ دیش کے مشکل ترین داخلہ امتحانات میں سے ایک، ڈھاکہ یونیورسٹی آئی بی اے (IBA) کا امتحان دیا۔ میں نے پوری محنت، دل و جان سے تیاری کی، لیکن بدقسمتی سے کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ میری زندگی کی پہلی بڑی ناکامی ہے۔ اس وقت میری عمر 21 سال ہے۔
اس نتیجے کے بعد میرے والدین، خاص طور پر میرے والد، اس طرح کا رویہ اختیار کرنے لگے ہیں جس سے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہر چیز کا قصوروار میں ہی ہوں، میں نے پوری کوشش نہیں کی، اور میں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر دی ہے۔ آہستہ آہستہ مجھے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ گزشتہ 18–20 برسوں میں مجھے جو اچھا رویہ اور تعریف والدین کی طرف سے ملی، وہ زیادہ تر میری تعلیمی کامیابیوں سے مشروط تھی، اور جیسے ہی میں ناکام ہوا، وہ سب ختم ہو گئی۔
اب تقریباً ہر بات میں مجھ پر تنقید کی جاتی ہے یا مجھے طعنہ دیا جاتا ہے۔ گھر کا ماحول انتہائی افسردہ اور ذہنی طور پر تھکا دینے والا ہو چکا ہے۔ مجھے ہر وقت احساسِ جرم رہتا ہے، جیسے میری محض موجودگی ہی اس منفی ماحول کی وجہ ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ میری قدر و قیمت صرف میرے نتائج کی بنیاد پر ہے، میری ذات کی بنیاد پر نہیں۔
ایسے ماحول میں میرے لیے نہ تو صاف ذہن سے سوچنا ممکن ہے، نہ مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا، اور نہ ہی اپنی ذاتی ترقی پر کام کرنا۔ میری تعلیم، کاروبار اور خود سازی سے متعلق کچھ سنجیدہ منصوبے ہیں، لیکن گھر میں اس ذہنی دباؤ کے ساتھ رہتے ہوئے ان پر عمل کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
اسی وجہ سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ آئندہ 5 سے 6 سال کے لیے گھر چھوڑ دوں تاکہ خود کو دوبارہ سنبھال سکوں اور اپنی زندگی کو بہتر بنا سکوں۔ میرا ارادہ غصے یا بدتمیزی کے ساتھ گھر چھوڑنے کا نہیں ہے۔ میں اپنے والدین سے سکون اور احترام کے ساتھ بات کروں گا، انہیں سمجھاؤں گا کہ یہ قدم میری ذہنی صحت اور مستقبل کے لیے ضروری ہے، اور پھر روانہ ہو جاؤں گا۔ میں جانتا ہوں کہ اس فیصلے سے انہیں دکھ ہوگا اور وہ شاید مجھے جانے نہ دینا چاہیں، لیکن مجھے واقعی محسوس ہوتا ہے کہ اگر میں رکا رہا تو آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوگا۔
میرا مقصد اپنے والدین کو چھوڑ دینا نہیں ہے، بلکہ ایک دن ایک زیادہ مضبوط، متوازن اور کامیاب انسان بن کر واپس آنا ہے، جس پر وہ فخر کر سکیں۔
میرا مخلصانہ سوال یہ ہے کہ: اگر میں اس صورتِ حال میں، والدین کا احترام برقرار رکھتے ہوئے، جھگڑوں سے بچتے ہوئے اور اپنی ذمہ داریاں حتی الامکان ادا کرتے ہوئے گھر چھوڑ دوں، تو کیا یہ اسلام میں گناہ شمار ہوگا؟
اس معاملے میں آپ کی رہنمائی کا میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں گا۔

جواب: واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں والدین کے حقوق ادا کرنے، ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تاکید کی ہے، ایک جگہ تو اللہ تعالیٰ نے والدین کے سامنے "اُف" تک کہنے سے منع کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر والدین کی کوئی بات اولاد کو ناگوار گزرے تو پلٹ کر جواب نہ دے، بلکہ اس کو برداشت کرے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر کی امید رکھیں۔
حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں: "والدین اگر ماریں پیٹیں، گالی گلوچ کریں، بُرا بھلا کہیں یا طعن و تشنیع کرتے رہیں، تو ان کی ایذاؤں کو برداشت کیا جائے اور ان کو اُلٹ کر جواب نہ دیا جائے" (آپ کے مسائل اور ان کا حل: 560/8)
سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ کو گھر نہیں چھوڑنا چاہیے، بلکہ والدین کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی خوب خدمت کرتے رہیں، ان شاءاللہ تعالیٰ جلد آپ کو والدین کے رویّہ میں بہتری نظر آئے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: سورۃ الاسراء، (رقم الآیة: 23)
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا O

"آپ کے مسائل اور ان کا حل": (560/8، ط: مکتبہ لدھیانوی)

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals