عنوان: رشتے داروں سے میل جول رکھنا صلہ رحمی کا حصہ ہے(10212-No)

سوال: میری بہن کینڈا میں رہتی ہیں، کئی برسوں تک ہمارے تعلقات آپس میں ٹھیک تھے، میرے والد نے دوسری شادی کی تو میری بہن بات بات میں میری والدہ کو انتہائی سخت طعنے دیتی اور دل چھلنی کر دینے والی باتیں کرتی، اپنی طرف سے کی گئی مدد کا بار بار احسان جتلاتی، ہم اُس کے دیئے ہوئے کواٹر میں رہتے تھے اور میں کواٹر میں رہائش کے بدلے میں اُس کے تمام مالی امور کی نگرانی، حساب و کتاب اور دیگر تمام کام کرتا تھا، اُس کے اس تلخ رویے کے باوجود ہم ہر ممکن طور پر خامو ش رہتے۔
میں اپنی والدہ کی بے عزتی اور بے تو قیری مزید برداشت نہ کر سکتا تھا، چناچہ میں نے جب اپنا گھر بنا لیا اور شادی کر لی تو اُس سے کسی قسم کا رابطہ اور تعلق قائم نہیں رکھا، تاہم میں نماز میں اُس کی آل اولاد کے لئے دعا کرتا رہتا ہوں۔ کیا میرا یہ عمل قطع رحمی میں آئے گا؟ کیونکہ اگر تعلق رکھتا ہوں تو اُسکے طعنوں اور دل تو ڑنے والی باتیں ہمیں شدید تکلیف دیتی ہیں اور تعلقات مزید خرابی کی جانب جا سکتے ہیں۔
نیز میں اور میرا بھائی ایک ہی شہر میں رہتے ہیں، ہم اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں، صبح جا کر شام کو آتے ہیں، تاہم شادہ بیاہ یا فوتگی، عیدین کے مو قع پر آنا جانا ہوتا ہے اور کبھی کبھار فون پر بات چیت ہو جاتی ہے، کوئی ناراضگی بھی نہیں ہے۔ کیا یہ بھی قطع رحمی میں شمار ہوگا؟

جواب: کسی بھی رشتے دار سے مکمل طور پر رابطہ ختم کردینا قطع تعلقی کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ جائز نہیں ہے، اپنی وسعت کے مطابق اعتدال کے ساتھ اچھا تعلق رکھنے کی کوشش کریں، اور بہن کی کسی بات سے اذیت پہنچتی ہو تو صبر اور حوصلہ سے کام لیں، صبر کرنا بھی ثواب کا کام ہے، قرآن كريم اور حديث مبارکہ میں جگہ جگہ دوسروں کو معاف کرنے، غلطیوں سے درگزر کرنے اور اذیت پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے، جو کہ بہت زیادہ اجر و ثواب کا کام ہے۔
جہاں تک بھائی سے متعلق سوال ہے تو اس سلسلے میں واضح رہے کہ قریبی رشتے داروں کے ساتھ عرف کے مطابق میل جول رکھنا، ایک دوسرے کے گھر آنا جانا اور بچوں کو رشتے داروں سے مانوس کرنا بھی صلہ رحمی کا ایک حصہ ہے، جس کا اہتمام کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (الرعد، الآية: 21)
وَٱلَّذِينَ ‌يَصِلُونَ ‌مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَيَخَافُونَ سُوٓءَ ٱلۡحِسَابِ •

مسند أحمد (رقم الحديث: 1659، ط: مؤسسة الرسالة)
عن إبراهيم بن عبد الله بن قارظ، أن أباه حدثه: أنه دخل على عبد ‌الرحمن بن ‌عوف وهو مريض، فقال له عبد ‌الرحمن: وصلتك رحم إن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:"قال الله عز وجل: أنا ‌الرحمن خلقت ‌الرحم، وشققت لها من اسمي، فمن يصلها أصله، ومن يقطعها أقطعه، فأبته أو قال: من يبتها أبته".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 333 Feb 05, 2023
rishte / rishtay daro se / say mail jool / jol rakhna sila rehmi ka hissa hai

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.