عنوان: بینک میں کرنٹ (Current) اور سیونگ اکاؤنٹ (Saving account) کھولنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا حکم(10242-No)

سوال: بینک میں ڈپازٹ کی ہوئی رقم پر جو سود ملتا ہے، اس رقم کا کیا کیا جائے؟

جواب: واضح رہے کہ سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ (Saving account) کھلوانا جائز نہیں ہے، کیونکہ سودی بینک سیونگ اکاؤنٹ میں قرض کے طور پر رقم لیتا ہے، اس کے اوپر اضافی رقم کے ساتھ واپس کرتا ہے، شرعی طور پر قرض کے اوپر مشروط (یا معروف) اضافی رقم کا لین دین سود ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے، لہذا سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے، نیز سودی بینک کے کرنٹ (current account) میں اگرچہ اکاؤنٹ ہولڈر کو کوئی اضافی رقم نہیں ملتی، لیکن سودی بینک ان پیسوں کو آگے لوگوں کو سودی قرض کی بنیاد پر بھی دیتا ہے، اور کبھی کبھار یہ پیسے غیر شرعی کاروبار اور سرگرمیوں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جس کا فائدہ سودی بینک کو ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سودی نظام کی ترقی اور ترویج ہوتی ہے، جس کی ایک حد تک ذمہ داری اکاؤنٹ ہولڈر پر بھی عائد ہوتی ہے کہ ان کے پیسوں سے سودی نظام کے پھلنے پھولنے میں معاونت ہوتی ہے، اس لئے حتی الامکان سودی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے سے بھی اجتناب کرنا چاہئیے۔
البتہ سودی بینک کے متبادل کے طور پر مستند علماء کرام نے غیر سودی بینکاری کا نظام تجویز کیا ہے، لہذا جو غیر سودی بینک مستند علماء کرام کی زیرنگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہو، ان کے ہاں کرنٹ اور سیونگ اکاؤنٹ کھلوایا جاسکتا ہے۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی نے سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوالیا ہو تو اس میں حاصل ہونے اضافی رقم چونکہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اسے صدقہ کرنا واجب ہے، اور یہ صدقہ مال حرام سے جان چھڑانے کی نیت سے کیا جائے گا، اس لئے اس میں صدقہ کرنے کا ثواب نہیں ہوگا، نیز چونکہ مال حرام سے صدقہ کرنا شریعت کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے، اس لئے اس میں صدقہ کرنے کے ثواب کی نیت رکھنا بھی شرعا درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (آل عمران، الایة: 130)
یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضاعفة ... الخ

إعلاء السنن: (566/14، ط: دار الکتب العلمیة)
"عن علي رضي اﷲ عنہ مرفوعا کل قرض جر منفعۃ فہو ربا. وقال الموفق: کل قرض شرط فیہ الزیادۃ فہو حرام بلا خلاف

رد المحتار: (مَطْلَبٌ فِيمَنْ وَرِثَ مَالًا حَرَامًا، 99/5، ط: سعید)
والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 774 Feb 14, 2023
bandk me / mein current or saving account kholne or us se / say hasil hone wali aamdan / amdan / income ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.