سوال:
میں سیونگ اکاؤنٹ میں غیر اسلامی بینک سے منافع وصول کرتا رہا ہوں۔ میں اس کے بارے میں نہیں جانتا تھا، میں نے سوچا چونکہ بینک اسلامی ملک میں ہے اس لیے ان کا منافع حلال ہوگا، اب جب سے مجھے یہ معلوم ہو گیا ہے تو میں اس جمع شدہ منافع کا کیا کروں؟ اگر میں منافع اور صدقہ کی کل رقم کا تخمینہ لگاتا ہوں تو یہ میری زندگی کی بچت کے تقریباً برابر ہے۔ کیا مجھے منافع کی مکمل رقم ادا کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا میں اس رقم کو تقسیم کر کے سہہ ماہی صدقہ دے سکتا ہوں؟ شکریہ
جواب: واضح رہے کہ سودی بینک (conventional bank) میں سیونگ اکاؤنٹ (Saving account) کھلوانا جائز نہیں ہے، کیونکہ سودی بینک سیونگ اکاؤنٹ میں قرض کے طور پر رقم لیتا ہے اور اس کے اوپر اضافی رقم کے ساتھ واپس کرتا ہے، شرعی طور پر قرض کے اوپر مشروط یا معروف اضافی رقم کا لین دین سود ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے، لہذا سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں ہے۔ ناجائز ذریعہ آمدن سے حاصل ہونے والی رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر غرباء اور فقراء میں صدقہ کرنا ضروری ہے، البتہ ساری رقم یکمشت صدقہ کرنا مشکل ہو تو ماہانہ یا سہہ ماہی وغیرہ کی ترتیب سے تھوڑی تھوڑی کرکے بھی اتنی رقم صدقہ کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (آل عمران، الایة: 130)
یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضاعفة ... الخ
اعلاء السنن: (566/14، ط: دار الکتب العلمیة)
"عن علي رضي اﷲ عنه مرفوعا کل قرض جر منفعة فہو ربا. وقال الموفق: کل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف
معارف السنن: (باب ما جاء لا تقبل صلاة بغیر طهور، 34/1، ط: سعید)
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقہائنا کالهدایۃ وغیرها: أن من ملکك بملك خبیث، ولم یمکنه الرد إلی المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء … قال: إن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولا یرجو بہ المثوبة
رد المحتار: (553/9، ط. زکریا دیوبند)
و إلا تصدقوا بها لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبها.
فقه البیوع: (1063/2، ط: مکتبه معارف القرآن)
وحساب التوفير (Saving Account) حساب يعطي الحق لصاحب الحساب أن يسحب حدا معينا من المبالغ المودَعة فيه، و يعطي البنك على ذلك فائدة ربوية بنسبة أدنى من النسبة التي تعطى لصاحب الوديعة الثابتة (Fixed Deposit) التي تودَعُ فيها الأموال إلى مدة معينة و تعطى البنوك لأصحابها فائدة بنسبة أعلى، وكل واحد من الحسابين ربوي بحت، و الإيداع في هذين الحسابين حرام شرعا، لكونه تعاقدا بالربوا.
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، کراچی