سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دس لاکھ روپے کا قرض لے چکا ہو اور بعد میں اس کے پاس پیسے آ جائیں تو کیا وہ قربانی اور حج کر سکتا ہے، جبکہ اس نے ابھی تک قرض کے دس لاکھ ادا نہیں کرے ہیں؟ کیا ایسے شخص کی قربانی اور حج درست ہوں گے؟ براہِ کرم اس سوال پر روشنی ڈالیں اور جواب عنایت فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ جو شخص مقروض ہو اور اس کی ادائیگی کی تاریخ آچکی ہو اور قرض خواہ کے پاس اتنی رقم نہ ہو کہ وہ حج بھی کرلے اور قرض بھی ادا کرلے تو ایسی صورت میں قرض کی ادائیگی حج پر مقدم ہوگی، مقروض کا قرض خواہوں کی پیشگی اجازت کے بغیر حج پر جانا مکروہ ہے، البتہ اگر قرض خواہ حج پر جانے کی اجازت دے دیں یا قرض کی ادائیگی کی تاریخ نہیں آئی ہو یا قرض کی ادائیگی کے لیے متبادل انتظام موجود ہو تو ایسی صورت میں حج پر جانا بلا کراہت درست ہوگا۔ اسی طرح مقروض شخص کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ نفلی قربانی کرنے کے بجائے قرض خواہوں کا حق ادا کرے، ہاں اگر قرض خواہ قربانی کی اجازت دے دیں، یا قربانی کرنے سے قرض کی ادائیگی میں تاخیر نہیں ہورہی ہو تو اس صورت میں قربانی کرنے میں حرج نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوى الهندية : (221/1، ط: دارالفکر )
فِي الْمُلْتَقَطِ: حَجُّ الْفَرْضِ أَوْلَى مِنْ طَاعَةِ الْوَالِدَيْنِ وَطَاعَتُهُمَا أَوْلَى مِنْ حَجِّ النَّفْلِ، وَفِي الْكُبْرَى لَوْ كَانَ السَّفَرُ مَخُوفًا مِثْلَ الْبَحْرِ لَا يَخْرُجُ إلَّا بِإِذَنْ الْوَالِدَيْنِ، كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة.
وَيُكْرَهُ الْخُرُوجُ إلَى الْغَزْوِ وَالْحَجِّ لِمَنْ عَلَيْهِ الدَّيْنُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَالٌ مَا لَمْ يَقْضِ دَيْنَهُ إلَّا بِإِذْنِ الْغُرَمَاءِ فَإِنْ كَانَ بِالدَّيْنِ كَفِيلٌ إنْ كَفَلَ بِإِذْنِ الْغَرِيمِ لَا يَخْرُجُ إلَّا بِإِذْنِهِمَا، وَإِنْ كَفَلَ بِغَيْرِ إذْنِ الْغَرِيمِ لَا يَخْرُجُ إلَّا بِإِذْنِ الطَّالِبِ وَحْدَهُ وَلَهُ أَنْ يَخْرُجَ بِغَيْرِ إذْنِ الْكَفِيلِ كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ فِي الْمُقَطَّعَاتِ.
العنایۃ: (499/6، ط: دارالفکر)
وإذا اجتمع حق الشرع وحق العبد يقدم حق العبد لحاجته وغنى الشرع۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی