resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیرون ملک جانے کے لیے انویسٹرز سے پیسے لے کر اکاؤنٹ میں رکھنا اور اس پر اضافی رقم ادا کرنا

(39764-No)

سوال: میں بیرون ملک پڑھائی کے غرض سے جانا چاہتا ہوں، جہاں 30 سے 35 لاکھ کا خرچہ ہے جو ایک متوسط گھرانہ بڑے مشکل سے جمع کرتا ہے، اس کے علاوہ ستر سے اسی لاکھ کی بینک اسٹیٹمنٹ درکار ہوتی ہے جو کہ بہت مشکل کام ہے اور کوئی اتنے پیسے آج کل دیتا بھی نہیں تو میں نے تین چار لوگوں سے رابطہ کیا ہے، وہ پیسے دیتے ہیں لیکن اس پر فکس ٪ لیتے ہیں تو کیا مجبوری کی حالت میں اس طرح کیا جا سکتا ہے یا نہیں،اور اگر نہیں تو اسلامی ایسا کیا طریقہ ہے کہ وہ سود میں نہ آئے؟ انویسٹر کہتے ہیں کہ ہم آپ کو سروس دے رہے ہیں اور ہم اس کے چارجرز لے رہے ہیں، اس لیے یہ جائز ہے۔ اسی طرح ایک بینک والے کہہ رہے ہیں کہ آپ 20 لاکھ اکاؤنٹ میں رکھیں، باقی ہم ڈال دیں گے اور اس پر سروس چارجز لیں گے تو یہ کیسا ہے؟

جواب:
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق انویسٹرز یا بینک آپ کو جو پیسے دے رہے ہیں، شرعاً ان کی حیثیت قرض کی ہے، جس پر سروس چارجز کے نام سے اضافی رقم ادا کرنے کی شرط لگانا سود پر مشتمل ہونے کی ناجائز ہے، لہذا اس طرح معاملہ کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
ایسے موقع پر پہلے تو کوشش کرنی چاہیے کہ کسی ادارے یا شخص سے بغیر کسی اضافی سود کے یہ رقم بطورِ قرض حاصل کریں، لیکن اگر کوئی ایسی صورت ممکن نہ ہو تو اگر قرض دینے والا آپ کو اپنی رقم کے ساتھ ساتھ کوئی اور حقیقی خدمت یا سروسز بھی فراہم کردے، مثلاً: آپ کے لیے ویزہ اپلائی کرنے یا قانونی کاغذات بنوانے میں معاونت وغیرہ کرے تو ایسی صورت میں قرض دینے والے کے لئے علیحدہ طور پر اس فراہم کردہ سروسز کے عوض باہمی رضامندی سے طے شدہ رقم بطور اجرت لینا جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*الدر المختار و رد المحتار (کتاب البیوع، باب الربا، ۷/ ۳۹۸):*
الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة.

*بدائع الصنائع(کتاب القرض،7،/395، ط: سعید):*
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance