resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ترکی میں اسٹوڈنٹس کو ہیلتھ انشورنس بیچنے اور سابقہ کمائی کا حکم

(37725-No)

سوال: ترکی میں اسٹوڈنٹس کو ہیلتھ انشورنس بیچنے اور سابقہ کمائی کے بارے میں فتویٰ درکار ہے۔
محترم مفتی صاحب! میں ترکی میں مقیم ہوں اور ایک مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی (فتویٰ) چاہتا ہوں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ترکی میں رہائشی پرمٹ (اقامہ) حاصل کرنے کے لیے "ہیلتھ انشورنس" کروانا قانونی طور پر لازمی ہے۔ جب میں یہاں نیا آیا تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ اگر انشورنس قانونی مجبوری ہو تو اسے کروانے کی گنجائش ہے، تقریباً ایک سال بعد مجھے ایک انشورنس کمپنی ملی جو مارکیٹ ریٹ سے کافی کم قیمت پر اسٹوڈنٹس کو انشورنس دے رہی تھی۔ چونکہ اسٹوڈنٹس کے لیے یہ انشورنس کروانا لازمی تھا تو میں نے سوچا کہ جس طرح خریدار کے لیے مجبوری میں یہ جائز ہے، اسی طرح میں ان کی مدد بھی کر سکتا ہوں اور اس پر منافع بھی کما سکتا ہوں۔
میرا طریقہ کار یہ تھا: میں کمپنی سے انشورنس لے کر اسٹوڈنٹس کو فراہم کرتا تھا اور اس پر اپنا منافع (Profit/Commission) رکھتا تھا، لیکن پھر بھی وہ انشورنس اسٹوڈنٹس کو مارکیٹ سے سستی پڑتی تھی۔
حال ہی میں میں نے کچھ جگہوں پر پڑھا ہے کہ انشورنس خود خریدنا (مجبوری میں) تو جائز ہو سکتا ہے، لیکن "انشورنس بیچنا" یا اس پر کمیشن کھانا جائز نہیں ہے۔ اس بات سے میں بہت پریشان ہوں۔
براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں:
۱) کیا میرا یہ کام (انشورنس کمپنی اور اسٹوڈنٹس کے درمیان یہ ڈیل کروانا اور منافع لینا) جائز ہے یا حرام؟
۲) اگر یہ کام جائز نہیں تھا تو میں نے پچھلے عرصے میں اس سے جو کمائی (Earnings) حاصل کی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ کیا مجھے وہ صدقہ کرنی ہوگی؟
۳) کیا اس کام کو جاری رکھنے کی کوئی %۱۰۰ حلال صورت ممکن ہے؟ (مثلاً کیا میں صرف "سروس چارجز" یا فائل پروسیسنگ کی فیس لے سکتا ہوں؟)
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

جواب: واضح رہے کہ مروّجہ انشورنس سود اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔ تاہم پوچھی گئی صورت میں حکومت کی طرف سے رہائش کے لئے قانونی طور پر ہیلتھ انشورنس کروانا لازم ہو اور اس کا کوئی شرعی متبادل (شرعی تکافل وغیرہ) موجود نہ تو مجبوری کی صورت میں یہ انشورنس کروانے کی گنجائش ہے، لیکن انشورنس پالیسی بیچنا کوئی مجبوری نہیں ہے، یہ آپ کا اختیاری عمل ہے، اس لیے انشورنس پالیسی بیچنا ایک ناجائز کام میں معاونت (تعاون علی الاثم) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے، نیز ناجائز ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حکم یہ ہے کہ مالک معلوم نہ ہونے کی صورت میں اتنی رقم صدقہ کرنا کرنا لازم ہے۔
نوٹ: یہ حکم اس وقت ہے کہ جب وہاں کسی مروّجہ انشورنس کمپنی کے ساتھ معاملہ کیا جائے، لیکن اگر وہاں شرعی اصولوں کے مطابق کوئی اسلامک انشورنس/تکافل کی سہولت موجود ہو تو اس کا حکم الگ ہوگا، بوقت ضرورت اس کی تفصیل بتاکر شرعی حکم معلوم کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔
دلائل:

صحيح مسلم - عبد الباقي - (3 / 1219)
عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء

الدر المختار- (5 / 186)
(ولا بين حربي ومسلم) مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار (ثمة) لأن ماله ثمة مباح فيحل برضاه مطلقا بلا غدر خلافا للثاني والثلاثة.

مجلة الأحكام العدلية - (1 / 19)
(المادة 32) : الحاجة تنزل منزلة الضرورة عامة أو خاصة
فقه البیوع: (ص 1068)
وأمّا قبولُ الوظيفة فيها (شركات التأمين)، فحُكمُه وحكمُ التّعامل مع الموظّفين فيها مثلُ حكم الوظائف فى البنوك الرّبويّة.

کذا فی تبویب الفتاویٰ جامعہ دارالعلوم کراچی: (رقم الفتوی: 10/1783)

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance