عنوان: بہنوں اور بھتیجوں میں میراث کی تقسیم، نیز کچھ ورثاء کا متروکہ رقم میں سے مرحوم کی طرف سے صدقہ کرنا (10322-No)

سوال: مرحوم محمد ادریس (غیر شادی شدہ) کے ورثاء میں چار بہنیں، 9 بھتیجے اور 10 بھتیجیاں ہیں، جبکہ اس کے چار بڑے بھائی اس سے پہلے وفات پا چکے ہیں، اور متروکہ سامان میں ایک مکان اور کاروبار ہے۔
مرحوم کی جائیداد کی تقسیم سے متعلق چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
۱) جائیداد کی تقسیم کس نسبت سے ہوگی؟
۲) کیا صرف بہنیں وارث ہوں گی یا فوت شدگان بھائیوں کی اولاد بھی حصہ دار ہوگی؟
۳) اگر فوت شدگان بھائیوں کی اولاد بھی حصہ دار ہوگی تو کیا صرف بھتیجے ہوں گے یا بھتیجیاں بھی ہوں گی؟
۴) کیا مکان رقم اور کاروبار کی تقسیم کا طریقہ کار ایک ہی ہوگا؟
۵) تقسیم سے قبل کاروبار سے آنے والے نفع کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟
۶) کیا کچھ نقد رقم میں سے بہنوں کو حق حاصل ہے کہ وہ متفقہ(صرف بہنیں) طور پر کچھ راہ اللہ میں دے دیں؟

جواب: 3-1) مرحوم کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ (گھر، کاروبار اور تمام متروکہ چیزوں کو) چون (54) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے چاروں زندہ بہنوں میں سے ہر ایک بہن کو نو (9) اور نو بھتیجوں میں سے ہر ایک بھتیجے کو دو (2) حصے ملیں گے، جبکہ بھتیجیوں کو اس صورت میں کچھ نہیں ملے گا۔
فیصد کے اعتبار سے ہر ایک بہن کو %16.66 فیصد اور ہر ایک بھتیجے کو %3.70 فیصد حصہ ملے گا۔
5-4) مکان، کاروبار، رقم، نفع اور تمام متروکہ سامان پچھلی شق میں ذکر کردہ اصول کے مطابق تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
6) اگر مرحوم کے تمام ورثاء (بہنیں اور بھتیجے) سب عاقل و بالغ ہیں اور وہ اپنی خوشی سے متروکہ رقم میں سے اللہ کی راہ میں کچھ صدقہ کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، تاہم بہتر یہ ہے کہ رقم کو ذکر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر کے تمام ورثاء کو ان کا حصہ دے دیا جائے، اس کے بعد جو وارث اپنے حصہ میں سے مرحوم کی طرف سے اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہے تو وہ اپنے حصے سے کر لے، لیکن اگر کوئی وارث راضی نہ ہو تو دیگر ورثاء کو اس کا حصہ دینا لازم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 176)
إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ... الخ

مشکوۃ المصابیح: (باب الغصب و العاریة، رقم الحدیث: 2946، ط: مکتبة البشری)
وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه».

شرح المجلة لسليم رستم باز: (المقالة الثانیة، المادة: 97، 51/1، ط: رشیدیة)
" لايجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."

شرح المجلة: (الفصل الثاني في کیفیة التصرف، المادۃ: 1075)
"کل من الشرکاء في شرکة الملك أجنبي في حصة سائرهم، فلیس أحدهم وکیلاً عن الآخر، ولایجوز له من ثم أن یتصرف في حصة شریکه بدون إذنه".

الدر المختار: (774/6، ط: سعید)
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب.

و فیه ایضاً: (783/6، 784، ط: سعید)
"إن ابن الأخ لایعصب أخته کالعم لایعصب أخته وابن العم لایعصب أخته وابن المعتق لایعصب أخته بل المال للذکر دون الأنثیٰ لأنها من ذوي الأرحام، قال في الرحبیة: ولیس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب".

الفتاوى الهندية: (451/6، ط: دار الفکر)
'' وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم، وهم أربعة أيضاً: العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق، كذا في خزانة المفتين''.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 345 Mar 02, 2023
behno or bhatijo / bhatijon me /mein miras ki taqseem, neez kuch wursa ka matroka raqam me / mein se /say marhom ki taraf se / say sadqa karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.