عنوان: کاروبار میں نقصان کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم (10334-No)

سوال: بیچنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ کی کل قیمت فروخت کے حساب سے پچھلے سال زکوٰۃ ادا کر دی تھی، لیکن اس سال پلاٹ کی قیمت فروخت قیمت خرید سے بھی کم ہو گئی ہے، مطلب پلاٹ نقصان میں ہے تو کیا اس سال بھی زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی؟ کیا میں ایک دو سال کا انتظار کر کے یا جب قیمت فروخت اچھی ہو تب پلاٹ بیچ کر ایک ساتھ زکوٰۃ ادا کر سکتا ہوں؟

جواب: یاد رہے کہ زکوٰۃ کا تعلق نفع کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ زکوٰۃ موجودہ (Current) مالیت پر واجب ہوتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ پلاٹ کی قیمت فروخت اور آپ کی ملکیت میں موجود دیگر اموال زکوٰۃ کی کل قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو آپ کے ذمہ ان کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہوگی۔
نیز ہر سال کی زکوۃ اسی سال ادا کر دینی چاہیے، ایک سال کی زکوۃ کو بلا وجہ اگلے سال کی زکوۃ واجب ہونے تک موخر کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہے، البتہ تاخیر سے ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور آپ کا ذمہ فارغ ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (20/2، 21، ط: دار الکتب العلمیة)
وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء۔

المحیط البرھانی: (239/2، ط: دار الکتب العلمیة)
ذکر ابو الحسن الکرخی رحمہ اللہ فی کتابہ انھا علی الفور، وذکر الحاکم الشھید فی المنتقی انھا علی الفور عند ابی یوسف ومحمد رحمھما اللہ ..... وقال ابوبکر الرازی رحمہ اللہ انھا تجب علی التراخی، وھکذا روی ابن شجاع والبلخی عن اصحابنا. قال البلخی رحمہ اللہ وکذلک الحج، وھذا لانہ لیس فی کتاب اللہ تعالیٰ وما فی سنۃ رسولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیان وقت اداء الزکوۃ ولا یمکن اتیانہ قیاسا.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 629 Mar 06, 2023
karobar me /mein nuqsan ki sorat / soorat me / mein zakat ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.