عنوان: بچہ کی ولدیت میں سوتیلے والد کا نام لکھنا(10518-No)

سوال: ایک بچہ کی والدہ کو اس کے والد نے بچپن میں ہی چھوڑ دیا تھا، بچہ بچپن سے والدہ کے پاس ہی رہ رہا ہے، اب اس کی والدہ نے دوسری شادی کرلی ہے تو اس کا سوتیلا والد چاہ رہا ہے کہ اس بچہ کی ولدیت میں اپنا نام لکھواؤں، تاکہ بچے کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو تو کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟

جواب: بچے کے نسب میں اس کے حقیقی والد کے بجائے کسی دوسرے شخص کا نام لکھنا سخت گناہ ہے، البتہ سوتیلے والد کا نام بطورِ سرپرست (Guardian) کے لکھ سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (الاحزاب، الایۃ: 5)
اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَائِہِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ․۔۔۔۔الخ

صحیح البخاری: (باب من ادعی الی غیر ابیہ، رقم الحدیث: 6766، 273/6، ط: دار الکتب العلمیة)
عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 415 May 18, 2023
bachey / bachay / larkay ki waldiat / waldiyat me / mein sotelay walid ka naam likhna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.