عنوان: دادا کا اپنی جائیداد میں سے پوتے پوتیوں کو حصہ دینا یا ان کے حق میں وصیت کرنا(10523-No)

سوال: ۱) ایک شخص کے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، جبکہ ایک بیٹے اور بیوی کا انتقال پہلے ہوگیا ہے، مرحوم بیٹے کی اولاد موجود ہے، یہ شخص چاہتا ہے کہ اپنے مرحوم بیٹے کی اولاد کو بھی حصہ دے تو کیا اس کے لیے ایسا کرنا درست ہے؟ ۲) اور کیا یہ شخص اپنی جائیداد زندگی میں تقسیم کر سکتا ہے؟

جواب: ۱) ہر انسان کو زندگی میں اپنے کل مال میں تصرف کا حق حاصل ہوتا ہے، نیز موت کے بعد ایک تہائی (1/3) مال کی وصیت کا حق بھی حاصل ہوتا ہے، لہٰذا جو رشتہ دار شرعی طور پر وارث نہ بن رہے ہوں تو آدمی اپنی زندگی میں انہیں مالک بنا کر ہبہ بھی کرسکتا ہے اور مرنے کے بعد ایک تہائی ترکے کے اندر ان کے لیے وصیت بھی کرسکتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں دادا اگر اپنے مرحوم بیٹے کے بچوں کو اپنی جائیداد میں سے کچھ دینا چاہے تو ان کو وہ چیز مالکانہ تصرفات اور قبضہ کے ساتھ دے سکتا ہے یا اپنی جائیداد میں ایک تہائی (1/3) تک ان کے لیے وصیت کرسکتا ہے۔
۲) واضح رہے کہ زندگی میں اپنی جائیداد ورثاء میں تقسیم کرنا وراثت نہیں، بلکہ ہبہ کہلاتا ہے، زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصے دیے جائیں، تاہم بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دوگنا دینا بھی جائز ہے اور اگر کسی بچے کو علم،تقوی، دینداری، فرمانبرداری یا خدمت کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے مثلاً اس کی مالی حالت کمزور ہو اور اولاد کا بوجھ اس پر زیادہ ہو تو ایسی صورت میں اگر اسے دیگر ورثاء سے زیادہ دے دیا جائے (بشرطیکہ بدنیتی کی وجہ سے کسی وارث کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو) تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الجوهرۃ النیرۃ: (کتاب الوصایا، 287/2، ط: المطبعة الخيرية)
’’الوصية مشروعة بالكتاب والسنة ۔۔ الوصية غير واجبة وهي مستحبة أي للأجنبي دون الوارث ولا تجوز الوصية للوارث إلا أن يجيزها الورثة يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون لأن الامتناع لحقهم فيجوز بإجازتهم ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون ملخصاً.

الھندیة: (378/4، ط: رشیدیة)
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".

رد المحتار: (444/4، ط: دار الفکر)
" أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة: أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية، ولو كنت مؤثراً أحداً لآثرت النساء على الرجال». رواه سعيد في سننه، وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم». فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا، والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى. وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزياً إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف، وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا: يكون آثماً في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلاتنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لايعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اه".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 476 May 22, 2023
dada ka apni jaidad / jayedad me / mein se / say potio / potiyon / poteon ka hisa / hissa dena ya un k haq me / mei wasiyat karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.