عنوان: بڑھاپے کی وجہ سے اپنی طرف سے حج بدل کروانے کا حکم (10574-No)

سوال: ایک عورت جس کی عمر ستر سال سے زیادہ ہے، ان پر حج فرض ہے، وہ بیماری اور بھیڑ کی وجہ سے اپنا حج بدل کروانا چاہتی ہیں تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ آیا وہ اپنا حج بدل کرواسکتی ہیں یا نہیں؟ مہربانی فرماکے جلد از جلد جواب عنایت فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ کوئی شخص حج فرض ہونے کے بعد بڑھاپے، بیماری یا کسی عذر کی وجہ سے حج کرنے پر قادر نہ ہو اور مستقبل میں بھی اس عذر کے ختم ہونے کی امید نہ ہو تو زندگی میں اپنی طرف سے حج بدل کرواسکتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ عورت اگر بڑھاپے کی کمزوری کی وجہ سے سفر کرنے سے عاجز ہو اور یہ عذر ختم ہونے کی امید بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنی طرف سے کسی سے حج بدل کروا سکتی ہے، البتہ واضح رہے کہ حج بدل کروانے کے باوجود اگر بعد میں کسی زمانہ میں یہ کمزوری ختم ہو جائے اور کوئی عجز باقی نہ رہے تو ایسی صورت میں اسے خود حج کرنا لازم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھندیة: (257/1، ط: دار الفکر)

الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة كان أو صوما أو صدقة أو غيرها كالحج وقراءة القرآن.... وجميع أنواع البر، ..... (العبادات ثلاثة أنواع): مالية محضة كالزكاة وصدقة الفطر، وبدنية محضة كالصلاة والصوم، ومركبة منهما كالحج. والإنابة ....تجري في النوع الثالث عند العجز، كذا في الكافي. ولجواز النيابة في الحج شرائط. (منها) : أن يكون المحجوج عنه عاجزا عن الأداء بنفسه وله مال، فإن كان قادرا على الأداء بنفسه بأن كان صحيح البدن وله مال أو كان فقيرا صحيح البدن لا يجوز حج غيره عنه. (ومنها) استدامة العجز من وقت الإحجاج إلى وقت الموت هكذا في البدائع حتى لو أحج عن نفسه وهو مريض يكون مراعى فإن مات أجزأه، وإن تعافى بطل.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 342 Jun 06, 2023
burhape / burbhapey / bemari ki waja se / say apni taraf se / sey /say hajje / hajj badal karwane ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.