سوال:
اگر کوئی شخص پاکستان سے عمرہ کی نیت سے سفر کرے اور میقات سے بغیر احرام گزر کر جدہ ایئرپورٹ پہنچ جائے، پھر وہاں پہنچنے کے بعد وہ شخص جدہ سے واپس اسی میقات پر چلا جائے جس سے وہ گزرا تھا اور وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کرے یا کسی دوسری مقررہ میقات پر جا کر احرام باندھ لے اور پھر مکہ مکرمہ آ کر عمرہ ادا کرے تو کیا اس صورت میں اس کا عمرہ درست اور ادا ہو جائے گا یا ہر حال میں اس پر دم (قربانی) واجب ہوگی؟ براہِ کرم قرآن،سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ آفاقی (میقات سے باہر رہنے والے) کے لیے احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونا جائز نہیں ہے، کیونکہ احرام کے بغیر میقات سے گزر کر مکہ مکرمہ میں داخل ہونا شرعاً ممنوع ہے، تاہم اگر یہ احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہوجائے تو احرام کے بغیر میقات کو عبور کرکے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی وجہ سے چونکہ دم اور ایک عمرہ یا حج کرنا لازم ہوجاتا ہے، تاہم اگر یہ واپس اپنی میقات یا کسی بھی قریبی میقات جاکر عمرے کا احرام باندھ لے تو اس سے دم ساقط ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
غنیة الناسک: (ص: 60، ط: ادارة القرآن و العلوم الاسلامیة)
اٰفاقی مسلم مکلف أراد دخول مکۃ أو الحرم ولو لتجارۃ أو سیاحۃ وجاوز اٰخر مواقیتہٖ غیر محرم ثم أحرم أو لم یحرم اثم ولزمہ دم وعلیہ العود إلی میقاتہ الذی جاوزہ او الی غیرہ اقرب او ابعد والی میقاتہ الذی جاوزہ افضل ، وعن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی ان کان الذی یرجع محاذیا لمیقاتہ الذی جاوزہ او ابعد منہ سقط الدم و الا فلا، فإن لم یعد ولا عذر لہ أثم اخریٰ لترکہٖ العود الواجب، فإن کان لہ عذر کخوف الطریق، أو الانقطاع عن الرفقۃ، أو ضیق الوقت أو مرض شاق ونحو ذٰلک فاحرم من موضعہ ولم یعد إلیہ لم یأثم بترک العود وعلیہ الاثم والدم بالاتفاق۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی