resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: دونوں ملکوں کے ائیرپورٹ پر محرم ہونے کی صورت میں عورت کا جہاز میں بغیر محرم سفر کرنا

(37692-No)

سوال: السلام علیکم، میں اس سال حج کا ارادہ رکھتی ہوں اور میں اقامہ ہولڈر ہوں، میرے شوہر تو سعودیہ میں ہی ہیں، ان شاء اللہ! حج ان کے ساتھ ہی ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سے سعودیہ تک اکیلے سفر کرنا جائز ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ عورت کے لیے مسافت شرعی (77.24) یا اس سے زیادہ کا سفر محرم کے بغیر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، چاہے وہ سفر حج یا عمرہ کے لیے ہو، حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کسی خاتون کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ ایک دن رات کا سفر بغیر کسی ذی رحم محرم کے کرے۔" (صحیح البخاری، حدیث نمبر:1088)
البتہ اگر شدید ضرورت ہو اور کوئی محرم یا شوہر خاتون کے ساتھ سفر کے لیے میسّر نہ ہو اور سفر کرنا بھی ضروری ہو تو ایسی صورت میں جس ملک میں خاتون ہو، اس شہر کے ائیرپورٹ تک محرم لے جائے اور جس شہر میں جانا ہے، اس شہر کے ائیرپورٹ پر محرم لینے آجائے تو شدید ضرورت کی صورت میں محرم کے بغیر نیک خواتین کے ساتھ اس طرح سفر کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ راستہ میں کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو، نیز اس میں حتّی الامکان اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ راستہ میں کہیں رات نہ ٹہرنا پڑے اور دوران سفر کسی مرد کے ساتھ والی سیٹ پر نہ بیٹھے، بلکہ جہاز کے عملہ سے بات کر کے کسی عورت کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے کی ترتیب بنائی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (كتاب تقصير الصلاة، رقم الحدیث: 1088، ط: دار طوق النجاة)
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَيْسَ مَعَهَا حُرْمَةٌ ، تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، وَسُهَيْلٌ ، وَمَالِكٌ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .

صحیح البخاري: (کتاب جزاء الصید، باب حج النساء، رقم الحدیث: 1862،ط: دار طوق النجاة)
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا تسافر المرأۃ إلا مع ذي محرم ، ولا یدخل علیہا رجل إلا ومعہا محرم، فقال رجل: یا رسول اللّٰہ! إني أرید أن أخرج في جیش کذا وکذا، وامرأتي ترید الحج، فقال: أخرج معہا۔

شرح معانی الآثار: (114/2، ط: عالم الکتب)
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل لامرأة أن تسافر مسيرة ثلاثة أيام إلا مع رجل يحرم عليها نكاحه»

بدائع الصنائع: (132/2، ط: دار الکتب العلمیة)
عن ابن عباس - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: ألا «لا تحجن امرأة إلا ومعها محرم» ، وعن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «لا تسافر امرأة ثلاثة أيام إلا ومعها محرم أو زوج» ولأنها إذا لم يكن معها زوج، ولا محرم لا يؤمن عليها إذ النساء لحم على وضم إلا ما ذب عنه، ولهذا لا يجوز لها الخروج وحدها.

بحوث في قضايا فقهية معاصرة: (سفر المراة بغیر محرم، 337/1، مکتبه معارف القرآن)
أخرج مسلم عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((لا تسافر المرأة فوق ثلاث إلا ومعها زوج أو ذو رحم محرم منها)) هذا الحكم الصريح قد أخذ به جمهور الفقهاء، حتى إنهم لم يجوزوا لها أن تسافر بدون محرم لضرورة الحج، وأن الدراسة والعمل في البلاد الأجنبية ليس من ضرورة النساء المسلمات في شيء، إن الشريعة لم تأذن للمرأة بالخروج من دارها إلا لحاجة ملحة، وقد ألزم أباها وزوجها بأن يكفل لها بجميع حاجاتها المالية، فليس لها أن تسافر بغير محرم لمثل هذه الحوائج.أما إذا كانت المرأة ليس لها زوج أو أب، أو غيرهما من أقاربها الذين يتكفلون لها بالمعيشة، وليس عندها من المال ما يسد حاجتها، فحينئذ يجوز لها أن تخرج للاكتساب بقدر الضرورة، ملتزمة بأحكام الحجاب، فيكفي لها في مثل هذه الحال أن تكتسب في وطنها، ولا حاجة لها إلى السفر إلى البلاد الأجنبية
ولو لم تجد بدا من السفر في وطنها من بلد إلى آخر، ولم تجد أحدا من محارمها، ففي مثل هذه الحالة فقط يسع لها أن تأخذ بمذهب مالك، والشافعي، *حيث جوزوا لها السفر مع النساء المسلمات الثقات.

کذا فی تنویب فتاوی دارالعلوم کراتشی: (26/1498)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah