سوال:
میں عمرہ کے دوران ایک مسئلے کے بارے میں وضاحت چاہتا ہوں۔ جب میں عمرہ کے لیے ایئرپورٹ پہنچا تو میں پہلے ہی احرام کی حالت میں تھا، ایئرپورٹ کے اندر مجھے فرش پر ایک موبائل فون پڑا ہوا نظر آیا، میں نے اسے اٹھا کر اپنے بیگ میں رکھ لیا اس نیت سے کہ جب ممکن ہو تو اسے اس کے اصل مالک کو واپس کر دوں یا متعلقہ حکام کے حوالے کر دوں۔ میرا اسے اپنے لیے رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا احرام کی حالت میں کسی گم شدہ چیز جیسے موبائل فون کو اٹھانا جائز ہے؟ نیز کیا اس عمل کی وجہ سے کوئی دَم (قربانی)، فدیہ یا کفارہ لازم آتا ہے؟ اگر اس میں کوئی شرعی غلطی ہوئی ہو تو اس کی درستگی کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن، سنت اور اہلِ علم کی آراء کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں، جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ حالتِ احرام میں گمشدہ چیز اٹھانا جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اس چیز کو از خود یا متعلقہ عملہ کے ذریعے مالک تک پہنچانے کی حتی الامکان کوشش کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدرمختار: (6/ 422، ط: دار الفکر )
(رفع شئ ضائع للحفظ على الغير لا للتمليك ندب رفعها لصاحبها) إن أمن على نفسه تعريفها وإلا فالترك أولى (ووجب عند خوف ضياعها فإن أشهد عليه وعرف إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها تفسد إن بقيت كالاطعمة) والثمار (كانت أمانة فينتفع بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير.
الدر المختار مع رد المحتار: (543/2، ط: دار الفکر)
الجناية: هنا ما تكون حرمته بسبب الإحرام أو الحرم، وقد يجب بها دمان أو دم أو صوم أو صدقة.
(قوله بسبب الإحرام أو الحرم) حاصل الأول سبعة نظمها الشيخ قطب الدين بقوله:محرم الإحرام يا من يدري ... إزالة الشعر وقص الظفرواللبس والوطء مع الدواعي ... والطيب والدهن وصيد البرزاد في البحر ثامنا وهو ترك واجب من واجبات الحج، فلو قال. محرم الإحرام ترك واجب. إلخ كان أحسن.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی