عنوان: مالک نہ ملنے پر امانت کی رقم کا حکم(10616-No)

سوال: ہمارے پاس کچھ رقم پڑی ہے، لیکن اس کے مالک کا ڈھونڈنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے، اس رقم کو ہم کاروبار میں لگاکر منافع سمیت صدقہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب: امانت کا حکم یہ ہے کہ وہ اصل مالک کو لوٹائی جائے، اور اگر مالک نہ ملے تو اس مالک کے ورثاء کے حوالے کی جائے، لیکن اگر ورثاء بھی نہ ملیں تو اس امانت پر لقطہ کا حکم جاری ہوگا، اس صورت میں آپ کو اختیار ہے، چاہیں تو اسے اپنے پاس محفوظ رکھیں یہاں تک کہ مالک یا اس کے ورثا ء مل جائیں، یا اس رقم کو اصل مالک کی طرف سے کسی غریب مستحقِ زکوٰۃ کو دیکر صدقہ کردیں، اور اگر آپ خود غریب یعنی مستحق زکوٰۃ ہیں تو آپ خود بھی اس رقم کو استعمال کرسکتے ہیں، لیکن دونوں صورتوں میں اگر بعد میں مالک مل گیا اور وہ صدقہ پر راضی نہ ہوا تو امانت کی رقم اس کو واپس کرنا ہوگی۔
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ مذکورہ رقم کو مالک کی طرف سے کاروبار میں لگاتے ہیں تو اس رقم سے حاصل ہونے والے منافع کا حقدار بھی اس کا مالک ہی ہوگا، اور اس منافع کا بھی وہی حکم ہوگا جو اصل رقم کا ہے، لہذا اس صورت میں اگر بعد میں مالک آجاتا ہے، اور وہ اس صدقے پر راضی نہیں ہوتا تو آپ پر لازم ہوگا کہ اصل رقم اور اس سے حاصل ہونے والا منافع سب اس کو واپس کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 6949، ط:دار احیاء التراث العربی)
عن عبد الله بن عمر ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال: " بينما ثلاثة نفر يتمشون اخذهم المطر، فاووا إلى غار في جبل، فانحطت على فم غارهم صخرة من الجبل، فانطبقت عليهم، فقال بعضهم لبعض: انظروا اعمالا عملتموها صالحة لله فادعوا الله تعالى بها لعل الله يفرجها عنكم، فقال: احدهم اللهم إنه كان لي والدان شيخان كبيران وامراتي ولي صبية صغار ارعى عليهم، …… وقال الآخر: اللهم إني كنت استاجرت اجيرا بفرق ارز، فلما قضى عمله، قال: اعطني حقي، فعرضت عليه فرقه فرغب عنه، فلم ازل ازرعه حتى جمعت منه بقرا ورعاءها فجاءني، فقال: اتق الله ولا تظلمني حقي، قلت: اذهب إلى تلك البقر ورعائها فخذها، فقال: اتق الله ولا تستهزئ بي، فقلت: إني لا استهزئ بك خذ ذلك البقر ورعاءها، فاخذه فذهب به، فإن كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا ما بقي ففرج الله ما بقي "،

الھندیة: (کتاب اللقطۃ، 289/2، ط: دار الفکر)
ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع على الملتقط وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين.

الدر المختار: (279/4- 280، ط: دار الفکر)
(فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه ۔۔۔۔ (فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها (أو تضمينه).

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 406 Jun 14, 2023
malik na milne / milnay par amanat ki raqam ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.