عنوان: گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ (10681-No)

سوال: ہم اپنے کاروبار کی زکوۃ باقاعدہ حساب کر کے ادا کیا کرتے تھے، لیکن کورونا کے بعد کچھ سالوں سے باقاعدہ طور پر حساب کر کے ادائیگی نہیں ہو سکی۔ پوچھنا یہ ہے کہ جن سالوں کا با قاعدہ حساب نہیں ہو سکا ہے، ان سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کس طرح سے کی جائے کہ کوئی کمی نہ رہ جائے؟

جواب: گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس تاریخ میں آپ کی زکوٰۃ کا سال مکمل ہوتا ہے، ‏اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے اپنے کاروبار سے حاصل شدہ آمدنی کا محتاط اندازہ لگا کر پہلے ایک سال کی زکوٰۃ کا حساب کریں، پھر پہلے سال کی ‏زکوٰۃ منہا کرکے بقیہ رقم کو دیکھتے ہوئے دوسرے سال کی زکوٰۃ کا حساب ‏کریں، اسی طرح دوسرے سال کی زکوٰۃ منہا کرنے کے بعد ‏تیسرے سال کی زکوٰۃ کا حساب کریں، اس طرح جتنے سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی، ان کا حساب اسی طریقے سے لگا کر زکوٰۃ ‏ادا کر لی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوى الهندية: (181/1، ط: دار الفکر)‏

رجل له ألف درهم لا مال له غيرها استأجر بها دارا عشر سنين لكل سنة مائة ‏فدفع الألف، ولم يسكنها حتى مضت السنون والدار في يد الآخر يزكي الآجر ‏في السنة الأولى عن تسعمائة، وفي الثانية عن ثمانمائة إلا زكاة السنة الأولى ثم ‏سقط لكل سنة زكاة مائة أخرى، وما وجب عليه بالسنين الماضية، ولا زكاة ‏على المستأجر في السنة الأولى والثانية بنقصان نصابه في الأولى وعدم تمامه في ‏الثانية ويزكي في الثالثة ثلثمائة ثم يزكي لكل سنة مائة أخرى، وما استفاد قبلها ‏إلا أنه يرفع عنه زكاة السنين الماضية.‏

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 306 Jul 11, 2023
guzishta salo / saloo ki zakat ada karne ka tariqa

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.