سوال:
میں کاروبار کرتا ہوں، کسی مہینے آمدن زیادہ ہوتی ہے اور کسی مہینے کم۔ جو بھی پیسے آتے ہیں وہ بینک اکاؤنٹ میں آتے ہیں۔ ہر مہینے خرچہ کرنے کے بعد باقی پیسے محفوظ کر لیتا ہوں، اسی وجہ سے ہر مہینے اکاؤنٹ کا بیلنس بدلتا رہتا ہے۔
20 فروری 2025 کو میرے بینک اکاؤنٹ میں 3 لاکھ روپے تھے، 20 فروری 2026 کو میرے اکاؤنٹ میں 7.5 لاکھ روپے موجود ہیں، مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اس رقم کا اندازہ کیسے کروں جس پر ایک سال گزر چکا ہو، کیونکہ میرے علم کے مطابق زکوٰۃ اسی رقم پر واجب ہوتی ہے جس پر پورا سال گزر جائے۔
کاروبار کی نوعیت: میری کوئی دکان یا فزیکل کاروبار نہیں ہے۔ میں آن لائن کام کرتا ہوں اور سروسز فروخت کر کے اس کی اُجرت لیتا ہوں۔
1) کیا یہ بات درست ہے کہ اگر پورے سال کے دوران رقم مکمل طور پر نصاب سے کم نہیں ہوئی تو بینک اکاؤنٹ کے بیلنس میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے زکوٰۃ پر کوئی فرق نہیں پڑتا اورایسی صورت میں 20 فروری 2026 کو اکاؤنٹ میں جتنی بھی رقم موجود ہو، اسی پوری رقم کا 2.5٪ زکوٰۃ کے طور پر ادا کیا جائے گا اور یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کون سی رقم پر پورا سال گزر چکا ہے اور کون سی رقم پر نہیں؟
2) میں نے دو ماہ پہلے ڈیڑھ لاکھ روپے اسٹاک میں سرمایہ کاری کی ہے، جس پر نفع کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتا رہتا ہے، اس پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے نصاب زکوٰۃ پر سال گزرنا لازمی ہے، البتہ سال گزرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مال کے ہر ہر حصے پر الگ سے مکمل سال گزرے، بلکہ سال گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس دن کوئی شخص نصابِ زکوٰۃ کا مالک ہو جائے تو اس دن کی قمری تاریخ کے اعتبار سے اس کا سال شروع ہوگیا ہے، اب اگلے سال سال مکمل ہونے کے آخری دن اگر وہ شخص صاحب نصاب ہو تو اس پر اس دن موجود کل قابلِ زکوۃ اموال کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہوگا، دوران سال مال بڑھنے اور کم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بشرطیکہ دورانِ سال مال مکمل طور پر ختم نہ ہوا ہو۔
1) سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ کو قمری تاریخ کے اعتبار سے زکوۃ ادا کرنا چاہیے، قمری کیلنڈر کے مطابق سال شمسی سال سے تقریباً دس دن پہلے مکمل ہوتا ہے، جس تاریخ کو آپ کا سال مکمل ہو، اس دن آپ کے اکاؤنٹ میں ضرورت سے زائد جتنی رقم ہے ان سب کی زکوۃ ادا کرنا واجب ہوگا۔
2) اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ پر زکوٰۃ کا حکم جاننے کے لیے ہمارے دارالافتاء کا یہ تفصیلی فتویٰ ملاحظہ فرمائیں: https://share.google/Gv2xSbZYi3O5EF0JO
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الهداية: (1/ 103، ط: دار احياء التراث العربي)
وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة۔
فتاوی الھندیة: (1/ 175، ط: دار الفكر بيروت)
ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاۃ المستفاد من نمائه أولا و بأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة. فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق هكذا في شرح الطحاوي. ثم إنما يضم المستفاد عندنا إلى أصل المال إذا كان الأصل نصابا فأما إذا كان أقل فإنه لا يضم إليه، وإن كان يتكامل به النصاب وينعقد الحول عليهما حال وجود النصاب كذا في البدائع۔
و فیه ایضاً: (175/1، ط: دار الفكر)
(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية۔
حواللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی