resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ذاتی اور تجارتی قرضوں پر زکوٰۃ کا حکم اور وجوب زکوٰۃ کی متفرق صورتیں

(39874-No)

سوال: محترم مفتیان کرام! درج ذیل مسئلہ میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
پس منظر مسئلہ: ایک تجارتی کمپنی ہے، جس کے (6) شرکاء ہیں، ہر شریک اپنی سالانہ مالی حیثیت اور کمپنی کے قابلِ زکوۃ اثاثہ جات کے حساب سے زکوۃ ادا کرتا ہے، کمپنی ہر سال قمری مہینوں کے اعتبار سے 19 ربیع الاول میں حساب کر کے زکوۃ ادا کرتی ہے، گزشتہ چند سالوں کی زکوۃ ادا نہیں کی گئی، جن کی تاریخیں درج ذیل ہے:
زکوٰۃ واجب ہونے کی تاریخیں درج ذیل ہیں:
سن 2022 میں 29 اکتوبر
سن 2023 میں 16 اکتوبر
پلاٹ کی خریداری کی تفصیل
کمپنی نے استعمال کی غرض سے ایک دکان قسطوں پر خریدی، دکان کی مجموعی قیمت 19 کروڑ روپے مقرر ہوئی، اس سلسلے میں مختلف اوقات میں تین معاہدے ہوئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا معاہدہ
مورخہ 20 اکتوبر 2022
کل قیمت: 190,000,000
اقساط:
1: 22 اکتوبر2022ـ 5,000,000 روپے
2: 23 اپریل 2023 طے شدہ رقم
3: 23 جون 2023 طے شدہ رقم
چونکہ اس معاہدے کے مطابق ادائیگی نہ ہو سکی، اس لیے معاہدے کی تجدید کی گئی۔
دوسرا معاہدہ
مورخہ 31 دسمبر 2022
کل قیمت: 190,000,000
اقساط:
1: 22 اکتوبر 2022 ـ 5,000,000 (ادا شدہ)
2: 31 دسمبر 2022ـ 70,000,000
3: اپریل 2023 ـ 20,000,000
4: اکتوبر 2023ـ 25,000,000
5: جنوری 2024ـ 25,000,000
6: اپریل 2024ـ 45,000,000
وضاحت: 70,000,000 روپے کمپنی کے ایک شریک نے اپنی ذاتی دکان کی صورت میں ادا کیے، کمپنی نے اس شریک کو تین سال میں اقساط کے ذریعے ادائیگی کرنے کا معاہدہ کیا، بعد ازاں اس معاہدے میں بھی تبدیلی کی گئی۔
تیسرا معاہدہ
مورخہ 23 مئی 2023
کل قیمت: 180,000,000 روپے
اقساط:
1:کیش ادا شدہ: 17,500,000 (کیش ادا شدہ)
2: 31 دسمبر 2022 ـ 70,000,000
3: 23 مئی 2023 ـ 15,000,000
4: جولائی 2023ـ 15,000,000
5: اکتوبر 2023ـ15,000,000
6: جنوری 2024ـ15,000,000
7: اپریل 2024ـ15,000,000
8: اکتوبر 2024ـ17,500,000
وضاحت:
70,000,000 روپے ایک شریک نے اپنے ذاتی دکان کی صورت میں ادا کیے، کمپنی نے اس رقم کی واپسی تین سال میں اقساط کی صورت میں ادا کرنے کا معاہدہ کیا، تمام ادائیگیاں تیسرے معاہدے کے مطابق ہو رہی ہیں، مزید یہ کہ شریک کی اپنی ذاتی دکان قرضے کی مد میں دینے کی وجہ سے جو قرضہ کمپنی پر آیا تھا، وہ 2025 میں ادا ہوا ہے۔
موجودہ صورتحال
گزشتہ دو سالوں میں کمپنی نے دکان کی خریداری اور اقساط کی ادائیگی کی وجہ سے زکوۃ ادا نہیں کی، وجہ اس کی یہ تھی کہ پہلے سال 2022 میں کمپنی کے کل قابلِ زکوۃ اثاثہ جات کی مالیت کم تھی اور دکان کے عوض جو قرضہ آیا تھا، اس کی مالیت زیادہ تھی، اور دوسرے سال 2023 میں بھی زکوۃ ادا نہیں کی، بوجہ شرکا کا یہ خیال تھا کہ دکان کی اقساط کمپنی پر قرضہ ہیں اور قرضے کی موجودگی میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی، لیکن 2023 میں زکوۃ کا حساب نہیں کیا تھا۔
مطلوبہ رہنمائی سوالات
1: کیا مذکورہ صورت میں پلاٹ کی اقساط واجب الادا ہونے کے باوجود کمپنی پر زکوۃ واجب ہوگی؟
2: قرضے کے موجودگی میں زکوۃ کا شرعی حکم کیا ہے؟
3: کتنے سالوں کی زکوۃ واجب ہوگی؟
4: جس سال زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی، ان کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟
5: جس شریک نے اپنی ذاتی رقم دکان کی صورت میں ادائیگی کی، اس کی زکوۃ کیا حکم ہوگا؟
6: زکوۃ کے حساب میں قابل ادائیگی قرض کو کس حد تک منہا کیا جائے گا؟
7: اگر قرض منہا کرنے کے بعد زکوۃ کے قابل مال کا اندازہ کریں اور وہ نصاب سے کم رہ جائے تو کیا ایسی صورت میں سال 2022 کی زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں؟
8: اگر قرض منہا کرنے کے بعد زکوۃ کے قابل مال کا اندازہ کریں اور وہ نصاب سے کم رہ جائے تو کیا ایسی صورتحال میں سال 2023 کی زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں؟
9: اگر قرض منہا کرنے کے بعد زکوۃ کے قابل مال کا اندازہ کریں اور وہ نصاب سے زیادہ ہو جائے تو کیا ایسی صورت میں سال 2023 کی زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
10: مذکورہ صورت میں زکوۃ کے واجب نہ ہونے کی صورت میں پہلے سے زکوۃ کی طے شدہ تاریخ کا کیا حکم ہے؟
(نوٹ: دونوں سالوں میں اگر دکان کی خریداری کی عوض جو قرضہ آیا ہے اس کو منہا نہیں کریں تو پھر دونوں سالوں کی زکوۃ آئے گی) آپ حضرات سے گزارش ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ضرورت سے زائد نقدی یا مالِ تجارت ہے، البتہ اگر ان میں سے کوئی ایک چیز تنہا نصاب کو نہ پہنچ رہی ہو تو سونا، چاندی، ضرورت سے زائد نقدی اور مالِ تجارت میں سے بعض یا کل کو دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ جمع کیا جائے تو ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جائے تو سال پورا ہونے پر ایسے شخص پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کا ترتیب وار جواب دیا جاتا ہے:
1: اگر پلاٹ بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو تو وہ مالِ تجارت کے حکم میں ہوگا، اور اس کی موجودہ قیمت فروخت پر زکوٰۃ واجب ہوگی، ایسی صورت میں اس سال کی واجب الادا اقساط منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی اور اگر پلاٹ تجارت کی نیت سے نہیں خریدا تو اس صورت میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
2: اس صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر قرض ذاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے لیا گیا ہو تو زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت اس سال کی واجب الادا قرض کی رقم منہا کی جائے گی، اور اس کے بعد جو مال نصاب کے بقدر یا اس سے زائد باقی بچ جائے گا، اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی، البتہ اگر قرض تجارتی مقاصد کے لیے لیا گیا ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں:
(الف) پہلی صورت یہ ہے کہ اگر یہ قرض ایسی چیزوں میں خرچ ہوا ہو جو قابلِ زکوٰۃ اثاثہ جات میں شامل نہیں، جیسے مشینری وغیرہ خریدی تو اس صورت میں قرض کی رقم منہا نہیں کی جائے گی۔
(ب) دوسری صورت یہ ہے کہ اگر یہ قرض ایسی چیزوں میں خرچ ہوا ہو جو قابلِ زکوٰۃ اثاثہ جات میں شمار ہوتی ہیں، جیسے مالِ تجارت وغیرہ تو اس صورت میں قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد باقی مال پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
3: اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر 29 اکتوبر 2022 (19 ربیع الاوّل) اور 16 اکتوبر 2023 (19 ربیع الاوّل) کو قرض اور اس مہینے کے دیگر واجب الادا اخراجات منہا کرنے کے بعد قابلِ زکوٰۃ مال نصاب کے بقدر پہنچ رہا ہو تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔
4: اگر تحقیق کے بعد معلوم ہو کہ کسی سال نصاب کے بقدر مال موجود تھا، اور اس سال کی زکوۃ ادا نہیں کی گئی تو اس سال کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
5: اس صورت میں چونکہ کمپنی کا شریک قرض خواہ ہے، لہٰذا اس قرض کی زکوٰۃ اس پر قرض وصول ہونے کے بعد لازم ہوگی، تاہم اگر وہ وصولی سے قبل ہی زکوٰۃ ادا کر دے تو وہ ادا شدہ زکوٰۃ شرعاً معتبر ہوگی۔
6: شق نمبر 2 میں اس صورت کا جواب دیا جا چکا ہے۔
9،8،7: قرض منہا کرنے کے بعد جس سال قابل زکوٰۃ مال نصاب سے کم رہ جائے، اس سال زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی اور جس سال مال نصاب کے بقدر یا اس سے زائد ہو، اس سال کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔
10: اگر کسی پورے سال کے دوران نصاب کے بقدر مال باقی نہ رہے، یعنی سال کے شروع سے آخر تک صاحب نصاب نہیں رہا یا سال کے شروع میں صاحب نصاب تھا، مگر دوران سال مال بالکل ختم ہو گیا تو اس صورت میں زکوٰۃ کا گزشتہ سال منقطع (کالعدم) شمار ہوگا، اور جب دوبارہ نصاب مکمل ہوگا تو اس دن سے نیا زکوٰۃ کا سال شروع ہو جائے گا، البتہ سال کے شروع اور آخر میں صاحب نصاب تھا مگر دوران سال نصاب سے کم مال رہ گیا، لیکن بالکل ختم نہیں ہوا تو اس صورت میں زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (20/2، 21، ط: دار الکتب العلمیة)
وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء۔

الدر المختار: (باب زکاة المال، 233/3، ط: سعید)
وشرط کمال النصاب … في طرفي الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتھاء للوجوب فلا یضر نقصانہ بینھما، فلو ھلک کلہ بطل الحول.

الهداية: (103/1، ط: دار احياء التراث العربي)
فصل في العروض: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب "لقوله عليه الصلاة والسلام فيها " يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم " ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع وتشترط نية التجارة ليثبت الإعداد.

فتح القدیر:(140/2)
ومن کان علیہ دین یحیط بمالہ، ولہ مطالب من جہۃ العباد سواء کان من النقود أو من غیرہا، وسواء کان حالا أو مؤجلا، فلا زکاۃ علیہ۔

فقہی مقالات: (قرضوں کی دو قسمیں،155/3،ط:میمن اسلامک پبلشرز)

مأخذہ التبویب دارالعلوم کراچی:(فتویٰ نمبر 2/2141)

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat