سوال:
پندرہ بیس سال پہلے میرے چچا نے بینک سے میرے نام پر ایک رکشہ قسطوں پر لیا تھا اور کچھ وقت کے بعد اس کو بیچ دیا اس شرط پر کہ دوسرا بندہ بقایا رقم کی قسطیں بینک کو ادا کرے گا ، لیکن اس نے ادانہیں کیں، اب وہ بینک کا قرضہ میرے اوپر ہے، چچا کے پاس اور نہ میرے پاس اتنے پیسے اکٹھے ہیں کہ وہ قرض ادا ہو، البتہ میری بیگم اپنی زکوٰۃ نکالتی ہیں، کیا اس زکوٰۃ کی رقم سے وہ قرض خود سےادا کر سکتے ہیں یا وہ رقم چچا کو دے کر قرض ادا کروائیں ۔ برائے مہربانی اصلاح کریں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگرچہ آپ کے چچا زکوٰۃ کے مستحق بھی ہوں، تب بھی انہیں مالک بنائے بغیر یا ان کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ کی رقم اُن کی طرف سے قرض میں دینے سے زکوٰۃ کی ادائیگی درست نہیں ہوگی۔
البتہ اگر انہیں اس رقم کا مالک بنا دیا جائے یا آپ کی بیگم ان کی اجازت سے یہ رقم قرض میں ادا کردیں تو اس صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
بدائع الصنائع: (39/2، ط: دار الکتب العلمية)
ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی