سوال:
مفتی صاحب! میں نے کراچی میں ایک بلڈنگ تجارت کی نیت سے خریدی ہے جو کرایے پر چل رہی تھی، اب اس کا کرایہ اب مجھے مل رہا ہے اور میری تجارت کی نیت اب بھی ہے کہ اچھا ریٹ آئے گا تو بیچ دوں گا، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس بلڈنگ کی مالیت پر زکوۃ ہے یا نہیں؟
جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے مذکورہ بلڈنگ تجارت یعنی فروخت کرنے کی نیت سے خریدی تھی اور کرایہ پر ہونے کے باوجود اب تک تجارت کی نیت برقرار ہے تو یہ بلڈنگ اموالِ تجارت میں شمار ہوگی اور صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں آپ کے ذمّہ اس بلڈنگ کی مالیت پر سالانہ ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ ادا کرنی واجب ہوگی۔ اسی طرح اس بلڈنگ سے جو کرایہ آرہا ہے، اس میں سے جتنی رقم سال کے آخر میں آپ کے پاس بچ جائے، اس پر بھی سالانہ زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوی الهندية: (174/1، ط: دار الفكر)
ونية التجارة والإسامة لا تعتبر ما لم تتصل بفعل التجارة أو الإسامة ثم نية التجارة قد تكون صريحا وقد تكون دلالة فالصريح أن ينوي عند عقد التجارة أن يكون المملوك للتجارة سواء كان ذلك العقد شراء أو إجارة وسواء كان ذلك الثمن من النقود أو العروض.وأما الدلالة فهي أن يشتري عينا من الأعيان بعروض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض من العروض فتصير للتجارة، وإن لم ينو التجارة صريحا.
کذا فی تبویب فتاوی دارالعلوم کراتشی: (32/1778)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی