سوال:
میری بہن کے شوہر کام نہیں کرتے، وہ کئی سالوں سے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مدد پر گزارا کر رہے ہیں، میں بھی انہیں زکوٰۃ کے ذریعے مدد کرتا رہا ہوں۔،میری بہن کے پاس تقریباً کوئی زیور نہیں ہے، ان کے بچوں کی تعلیم جاری ہے اور ان کی فیس بھی خاندان ہی ادا کرتا ہے، اس کے پاس تقریباً 3 مرلہ کا ایک سادہ سا گھر تھا جس کی قیمت لگ بھگ 25 لاکھ روپے تھی۔ چند ماہ پہلے یہ گھر اس نیت سے رکھا گیا کہ اسے فروخت کر کے والد کی جائیداد میں سے ملنے والے حصے کے ساتھ ملا کر نیا گھر خریدا جائے، لیکن کئی مہینے گزرنے کے باوجود وہ گھر ابھی تک فروخت نہیں ہو سکا۔
اس دوران وہ میرے گھر کے گراؤنڈ پورشن میں رہنے لگی ہے، اور میں اس سے کم کرایہ لیتا ہوں کیونکہ اس کے لیے پورا کرایہ ادا کرنا مشکل ہے، اب اس کے شوہر کے اکاؤنٹ میں تقریباً 25 لاکھ روپے موجود ہیں، لیکن سونے کی قیمت میں بہت زیادہ اضافے کی وجہ سے یہ رقم اس وقت نصاب میں شامل نہیں ہوتی، ہر مہینے یہ 25 لاکھ کی رقم اخراجات کی وجہ سے کم ہوتی جا رہی ہے، اگر تمام رشتہ دار ان کی مدد نہ کریں تو ان کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں کہ کیا وہ زکوٰۃ کی مستحق ہیں؟
کیا میں باقی رہ جانے والا کرایہ اپنی زکوٰۃ کی رقم میں ایڈجسٹ کر سکتا ہوں؟
اور کیا میں اب بھی زکوٰۃ کے ذریعے راشن، کپڑے یا کسی اور شکل میں ان کی مدد کر سکتا ہوں؟
تنقیح: محترم آپ کا سوال واضح نہیں ہے ۔ پہلے آپ نے لکھا ہے کہ مکان کی قیمت 25 لاکھ ہے جو اب تک فروخت نہیں ہو سکا، پھر آگے آپ نے لکھا ہے کہ آپ کے بہنوئی کے اکاؤنٹ میں اس مکان کے 25 لاکھ روپے موجود ہیں ۔ وضاحت فرمائیں کہ وہ گھر فروخت ہو چکا ہے یا نہیں ؟
جواب تنقیح:
معذرت! ٹائپ کرتے وقت “sold” کا لفظ رہ گیا تھا۔ جی ہاں، اس نے وہ گھر فروخت کر دیا تھا، اسی وجہ سے اسے 25 لاکھ روپے ملے۔
جواب: واضح رہے کہ جس شخص کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر سونا، نقد رقم، مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود نہ ہو، وہ شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہے، لہٰذا اگر آپ کی بہن مذکورہ نصاب کی مالک نہیں ہیں تو انہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے، البتہ چونکہ آپ کے بہنوئی کے پاس 25 لاکھ روپے نقد رقم موجود ہے، اس لیے وہ مستحقِ زکوٰۃ نہیں ہیں اور انہیں زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔
نیز یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحق شخص کو مالِ زکوٰۃ کا مالکانہ قبضہ دینا شرط ہے، اس بناء پر مکان کا کرایہ معاف کر دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔ تاہم اگر زکوٰۃ کی رقم پہلے مستحق کے حوالے کر دی جائے اور وہ اپنی مرضی اور خوش دلی سے اسی رقم کو کرائے کی مد میں آپ کو واپس کر دے تو اس صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ مزید یہ کہ زکوٰۃ نقد رقم کے علاوہ راشن، کپڑے اور دیگر اشیاء کی صورت میں بھی دی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوى الھندیة: (189/1، ط: دار الفكر)
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي. ولا يدفع إلى مملوك غني غير مكاتبه كذا في معراج الدراية.
الدر المختار: (256/2، ط: سعید)
وشرعا (تملیک) خرج الاباحۃ، فلو أطعم یتیما ناویاً الزکاۃ لایجزیہ الا اذا دفع الیہ المطعوم کما لو کساہ بشرط أن یعقل القبض الا اذا حکم علیہ بنفقتھم (جزٔمال) خرج المنفعۃ، فلو اسکن فقیرا دارہ سنۃ ناویا لایجز یہ (عینہ الشارع) وھو ربع عشر نصاب حولی۔
بدائع الصنائع: (461/2)
وامّا الذی یرجع الی المودّی فمنھا ان یکون مالاً متقوّما علی الاطلاق سواء کان منصوصاً علیہ اولا من جنس المال الذی وجبت فیہ الزکاۃ او من غیر جنسہ والاصل انّ کل مال یجوز التصدق بہ تطوعاً یجوز اداء الزکاۃ منہ ومالا فلا۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی