سوال:
حضرت! اگر میں اپنی زکوٰۃ کا حساب یکم رمضان کو کرتا ہوں، لیکن 29 شعبان کو میری بی سی کے 10 لاکھ روپے نکل گئے ہوں، اور مجھے آگے 5 لاکھ روپے مزید بی سی (کمیٹی) کی مد میں ادا کرنے ہیں تو کیا میں زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت بی سی کی وہ رقم جو مجھے آئندہ سال تک ادا کرنی ہے، اسے منہا (Minus) کر کے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہوں؟
جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی صاحب نصاب شخص بی سی (کمیٹی) وصول کرچکا ہو تو زکوۃ کی ادائیگی کے وقت کمیٹی کی جو رقم اس کے پاس موجود ہوگی، اس مجموعی رقم میں سے اگلے ایک سال کی جتنی قسطیں باقی ہیں، وہ سب قرضہ ہیں، انہیں منہا کرکے بقیہ رقم کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (باب زکوٰۃ المال، 305/2، ط: سعید)
ان الدیون عند الامام ثلاثۃ قوی ومتوسط وضعیف فتجب زکاتہا اذا تم نصابا وحال الحول لکن لافورا بل عند قبض اربعین درہما من الدین القوی کقرض وبدل مال تجارۃ فکلما قبض اربعین درہمایلزمہ درہم الخ۔”
الدر المختار: (2/ 259، ط:سعيد)
"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول؛ لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی