سوال:
السلام علیکم، حضرت مفتی صاحب! جب بچے کے پیدا ہونے کے ساتویں دن جب اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرتے ہیں تو کیا وہ رقم اپنی مستحق بہن کو یا کسی رشتے دار کو دے سکتے ہیں؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں ۔ جزاکم اللّٰہ خیراً
جواب: حضرت سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”مسکین پر صدقہ (کرنے کا ثواب) صرف صدقہ (کا ثواب) ہے، اور رشتے دار پر صدقہ (کرنے) میں دو بھلائیاں ہیں، ایک صدقہ کا اور ایک صلہ رحمی کا“۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر:658)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے بہن بھائی اور دیگر رشتہ داروں کو صدقہ دینے میں دہرا اجر ملے گا، ایک صدقے کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کرنے کا، لہذا نومولود کے سر کے بال کاٹنے کے بعد بالوں کے ہم وزن چاندی یا اس کے وزن کے بقدر رقم بہن، بھائی یا کسی رشتہ دار کو صدقہ کی مد میں دے سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن الترمذی: (كتاب الزكاة عن رسول الله ﷺ، باب ما جاء في الصدقة على ذي القرابة، رقم الحدیث:658، ط: دارالگرب الاسلامي)
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عاصم الاحول، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن عمها سلمان بن عامر، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إذا افطر احدكم فليفطر على تمر، فإنه بركة فإن لم يجد تمرا فالماء فإنه طهور " وقال: " الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان صدقة وصلة " . قال: وفي الباب عن زينب امراة عبد الله بن مسعود، وجابر، وابي هريرة. قال ابو عيسى: حديث سلمان بن عامر حديث حسن، والرباب هي ام الرائح بنت صليع، وهكذا روى سفيان الثوري، عن عاصم، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا الحديث، وروى شعبة، عن عاصم، عن حفصة بنت سيرين , سلمان بن عامر، ولم يذكر فيه عن الرباب، وحديث سفيان الثوري، وابن عيينة اصح، وهكذا روى ابن عون , وهشام بن حسان، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر.
بدائع الصنائع: (کتاب الزکوٰۃ، 50/2، ط: سعید)
وَالْأَفْضَلُ فِي الزَّكَاةِ وَالْفِطْرِ وَالنَّذْرِ الصَّرْفُ أَوَّلًا إلَى الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ ثُمَّ إلَى أَوْلَادِهِمْ.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی