سوال:
مفتی صاحب! امید ہے مزاجِ گرامی بخیر ہوں گے۔ ایک شرعی مسئلہ میں راہنمائی مطلوب ہے: ایک شخص صاحبِ نصاب ہے اور اس پر زکوٰۃ فرض ہے، اس کے والد مقروض ہیں، جبکہ یہ بات واضح ہے کہ والدین کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ اس شخص کا ایک بھائی مستحقِ زکوٰۃ ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ شخص اپنی زکوٰۃ کی رقم اپنے مستحق بھائی کو دے دے،اور وہ بھائی زکوٰۃ کی رقم کا حقیقی مالک بننے کے بعد اپنی مرضی اور اختیار سے اس رقم کو والد کے قرض کی ادائیگی میں خرچ کر دے تو کیا اس صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟ براہِ کرم اس مسئلہ کی شرعی وضاحت فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحقِ زکوٰۃ کو غیر مشروط طور پر زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنانا ضروری ہے، غیر مشروط طور پر کسی مستحق کو زکوٰۃ کا مالک بناتے ہی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، پھر زکوٰۃ وصول کرنے والا اپنے اختیار اور صوابدید کے مطابق مالِ زکوٰۃ کو کہیں بھی خرچ کرسکتا ہے۔
لہذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کا مستحق بھائی زکوۃ وصول کرنے کے بعد اپنے اختیار سے بغیر کسی اخلاقی دباؤ کے رقم اپنے والد کو دے دیتا ہے یا والد کی اجازت سے والد کا قرض ادا کردیتا ہے تو اس سے آپ کی زکوۃ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور آپ کی زکوۃ ادا ہو جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم:(سورۃ التوبۃ، رقم الآیۃ: 60)
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَ الۡمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الۡغٰرِمِیۡنَ وَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ O
سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث:1655، ط: دارالرسالة العالمیة)
عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ، قَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: شَيْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی