سوال:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاته!زکوٰۃ کے متعلق رہنمائی فرمائیں: ایک آدمی فیصل آباد کے نزدیک اینٹوں والے بھٹہ میں کام کر رہا ہے جس سے اس نے ڈھائی لاکھ روپے قرض لیا ہوا ہے، اسلام آباد میں چند آدمی زکوٰۃ کے پیسے جمع کر کے اس بھٹے والے سے اس کی جان چھڑانا چاہتے ہیں تو کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے اس کی مدد کی جا سکتی ہے؟
بھٹے والا کہہ رہا ہے کہ دو ماہ بعد میری رقم دے کر یہ جا سکتا ہے تو کیا زکوٰۃ کی رقم دو ماہ تک میں اپنے پاس امانت رکھ سکتا ہوں؟ اور اگر اس معاملے میں اسلام آباد سے فیصل آباد جانا پڑتا ہے تو سفری اخراجات زکوٰۃ میں سے دیے جا سکتے ہیں یا یہ اخراجات سہولت کار کو برداشت کرنے پڑیں گے جبکہ سہولت کار اس معاملے میں کوئی معاوضہ نہیں لے رہا ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ شخص مستحقِ زکوٰۃ ہو تو اس سے اجازت لے کر اس کی طرف سے وکیل بن کر زکوٰۃ کی رقم وصول کرکے اس کی اجازت سے بھٹے والے کو قرض میں ادا کرنا جائز ہوگا، اور ایسی صورت میں اس کی اجازت سے یہ رقم دو ماہ تک اپنے پاس بطورِ امانت رکھنا یا اس کی اجازت سے اس رقم سے سفری اخراجات برداشت کرنا بھی جائز ہوگا۔
تاہم اگر سہولت کار اس مجبور شخص کے ساتھ تعاون کی نیت سے سفری اخراجات خود برداشت کرے تو یہ اس کے لیے بڑے اجر وثواب کا باعث ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
بدائع الصنائع: (39/2، ط: دار الکتب العلمية)
ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی