عنوان: بدھ کے دن ناخن کاٹنے کا حکم اور اس سے متعلق روایت کی تحقیق (10865-No)

سوال: کیا بعض دنوں میں ناخن تراشنے کی فضیلت اور بعض دنوں میں اس کی ممانعت آئی ہے؟ خاص طور سے بدھ کے روز کے بارے میں سنا ہے کہ اس دن ناخن کاٹنے سے کوڑھ یا برص کی بیماری ہو جاتی ہے اور اس سے متعلق کسی بزرگ کا قصہ بھی مشہور ہے۔ درست رہنمائی فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ ناخن کاٹنے کے لیے کوئی خاص دن متعین نہیں ہے اور نہ ہی کسی خاص دن میں ناخن کاٹنے سے منع کیا گیا ہے، لہذا کسی بھی دن ناخن کاٹے جاسکتے ہیں۔
اور رہی یہ بات کہ بدھ کے دن ناخن کاٹنے سے برص کی بیماری پیدا ہوتی ہے، اس حوالے سے کوئی مستند بات ثابت نہیں ہے۔
البتہ علامہ خفاجی نے شرح الشفا میں لکھا ہے کہ بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت آئی ہے اور اس سے برص کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔ بعض اہلِ علم کے متعلق ایک حکایت نقل کی گئی ہے کہ کسی نے بدھ کے روز ناخن کاٹے تو اُنہیں اس حدیث کی وجہ سے منع کیا گیا، لیکن انہوں نے فرمایا یہ (بدھ کے روز ممانعت والی) حدیث بطریقِ صحیح ثابت نہیں، چنانچہ جب اُنہوں نے بدھ کو ناخن کاٹے تو انہیں اسی وقت برص لاحق ہوگیا، پھر اُن کو خواب میں جناب نبی کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ انہوں نے آپ ﷺ کی بارگاہ میں اپنے حال کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے بدھ کے روز ناخن کاٹنے کی ممانعت نہیں سنی تھی؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے نزدیک وہ حدیث درجہِ صحت کو نہیں پہنچی تھی۔ اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہونا چاہیے تھا کہ یہ حدیث تم نے ہمارے نام سے منسوب ہو کر سنی تھی۔ (اِس گفتگو کے بعد) جناب رسول اللہﷺ نے اپنا دست ِاقدس اُن کے جسم پر پھیرا تو فوراً ٹھیک ہوگئے اور اسی وقت توبہ کی کہ اب کبھی حدیث سن کر مخالفت نہ کروں گا۔ (نسيم الرياض:5/2)
اس واقعے پر سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ روایت حدیث کی کس کتاب میں ہے اور اس کا درجہ کیا ہے؟ تو باوجود کوشش کے حدیث کی کسی مستند و معتبر کتاب میں حدیث کی کسی بھی قسم (صحیح، حسن، ضعیف وغیرہ) وغیرہ کسی بھی شکل میں نہیں ملی، لہذا جب تک اس کا ثبوت نہیں ملتا ہے، اس کی نسبت جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ نیز علامہ سخاوی فرماتے ہیں: ناخن کاٹنے کی مخصوص کیفیت، یا اس کے لیے کسی دن کی تعیین کے متعلق کوئی بھی حدیث جناب نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔
نیز اس واقعے میں ایک عالم دین کے خواب کا قصہ بیان کیا گیا ہے اور انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی کا خواب شرعاً حجت نہیں یعنی خواب کی بنیاد پر کوئی شرعی حکم ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔
لہذا ناخن کاٹنے کے لیے کسی خاص دن کو متعین کرنا یا اس کی فضیلت بیان کرنا صحیح نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

نسيم الرياض في شرح القاضي عياض: (5/2، ط: دار الكتب العلمية)
وقص الأظافر وتقليمها سنة ورد النهى عنه فى يوم الأربعاء، وأنه يورث البرص وحكى عن بعض العلماء أنه فعله فنهى عنه فقال: لم يثبت هذا فلحقه البرص من ساعته، فرأى النبي عليه السلام في منامه فشكى إليه ما الله أصابه، فقال له: ألم تسمع نهى عنه ؟ فقال : لم يصح عندى فقال : يكفيك أنه سمع ثم مسح بدنه بيده الشريفة فذهب ما به فتاب عن مخالفة ما سمع.

المقاصد الحسنة للسخاوي: (رقم الحديث: 771، ص: 489، ط: دار الكتاب العربي)
قص الأظفار، لم يثبت في كيفيته، ولا في تعيين يوم له، عن النبي صلى الله عليه وسلم شيء، وما يعزى من النظم في ذلك لعلي رضي الله عنه، ثم لشيخنا رحمه الله فباطل عنهما، وقد أفردت لذلك مع بيان الآثار الواردة فيه جزءا.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1326 Aug 09, 2023
budh k din nakhun katney / katnay k hokom / hokum or us se / say mutaliq riwayat ki tehqiq / tehqeeq

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.