عنوان: ماں کے پیٹ میں تقدیر کا لکھا جانا(101093-No)

سوال: السلام عليكم، حضرت ! یہ پوچھنا ہے کہ جیسے ہم نے سنا ہے ماں کے پیٹ میں بچے میں جب روح ڈال دی جاتی ہے تو اسی ٹائم ہی اللہ‎ پاک اسکے جنّت یا جہنم کا فیصلہ کرتا ہے، اس بارے میں ذرا تفصیل سے رہنمائی فرما دیں۔

جواب: جی ہاں! یہ بات کہ ماں کے پیٹ میں بچے کی تقدیر لکھ دی جاتی ہے، یہ درج ذیل حدیث شریف میں ذکر کی گئی ہے۔

عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ،قال عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِوَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمُصَدَّقُ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِيبَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يبعث الله ملكاًبِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فيكتب عَمَلِهِ وأجله ورزقه وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ، ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل لَيَعْمَلُ بعمل أهل النار حتى ما يكون بينه وبينها إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ ْالكِتَاب فيعمل بعمل أَهْلِ الجنة فيدخل الجنة ، وإن الرجل ليعمل بعمل أهل الجنة حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وبينها إِلَّا ذِرَاعٌ فَيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل النار فيدخل النار .

ترجمہ:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے شکم میں پہلے چالیس روز تک (نطفہ کی صورت میں) رکھا جاتا ہے، پھر وہ چالیس روز تک جمے ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے، پھر وہ چالیس روز تک گوشت کا لوتھڑا بن کر رہتا ہے، پھر اللہ تعالی اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے کہ وہ چار باتیں لکھ دے۔ چنانچہ وہ اس کے اعمال، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق اور یہ کہ وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت لکھ دیتا ہے، پھر اس کے جسم میں روح پھونکی جاتی ہے، چنانچہ کوئی آدمی دوزخیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا ہے، تو وہ جنتیوں جیسے عمل کرکے جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک آدمی جنتیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن اس پر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا ہے، اور وہ جہنمیوں جیسے عمل کرنے لگ جاتا ہے اور جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔"
(صحيح بخاري، أحاديث الأنبياءو باب: 1، حديث 3332)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی صحيح البخاري:

عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ،قال عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِوَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمُصَدَّقُ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِيبَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يبعث الله ملكاًبِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فيكتب عَمَلِهِ وأجله ورزقه وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ، ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل لَيَعْمَلُ بعمل أهل النار حتى ما يكون بينه وبينها إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ ْالكِتَاب فيعمل بعمل أَهْلِ الجنة فيدخل الجنة ، وإن الرجل ليعمل بعمل أهل الجنة حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وبينها إِلَّا ذِرَاعٌ فَيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل النار فيدخل النار.

(أحاديث الأنبياء و باب: 1، رقم الحديث: 3332)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 228
maa ky paet mein taqdeer ka likha jana, writing of fortune in mother's belly/before birth

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com