سوال:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته! میں نے ایک عالم سے آج سنا ہے کہ شیطان کا نام ابلیس ہے اور شیطان اس کا وصف ہے، اور یہ قرآن میں انسان اور جن کے لئے بھی استعمال ہوا ہے، اور ایک حديث شریف میں خطرناک جانور کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ کیا یہ باتیں درست ہیں؟
جواب: ذکر کردہ سوال میں چار امور کا جواب مطلوب ہے، جو ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں:
1: لفظ شیطان لغت میں"شطن" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں دور ہونا، چونکہ شیطان بھی نافرمانی کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا، اس لیے اسے شیطان کہا جاتا ہے۔
2: تفسیر روح المعانی اور تفسیر ابن کثیر وغیرہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا اصل نام "عزازیل" اور ایک قول کے مطابق "حارث" تھا، اللّٰہ کی نافرمانی (سجدہ سے انکار) کرنے کے بعد اس کا نام "ابلیس" پڑگیا، در اصل لفظ ابلیس "ابلس" سے مشتق ہے، جس کا مطلب ہے مایوس ہونا، چونکہ شیطان بھی اللہ کی نافرمانی کے بعد رحمت خداوندی سے مایوس ہوگیا، اس لیے اس کا نام ابلیس پڑگیا۔
3: قرآن مجید میں "شیطان" کا لفظ صرف جنّات کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سورہ الانعام کی (آیت نمبر:112) کے تحت تفسیر مظہری میں مذکور ہے"شیاطین سے مراد ہیں سرکش جن و انس۔ قتادہ، مجاہد اور حسن رحمہم اللّٰہ نے فرمایا کہ انسانوں میں سے کچھ شیطان ہوتے ہیں، جو بھی حد سے تجاوز کرنے والا سرکش ہو، وہ شیطان ہے۔"
4: سنن ابو داؤد کی ایک حدیث کے آخر میں ہے:"کالا کتا شیطان ہے۔"(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر:702)
اس حدیث کی شرح میں ہے کہ بعض حضرات محدّثین کی رائے یہ ہے کہ یہاں حقیقتاً شیطان مراد ہے، جبکہ بعض کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ چونکہ کالا کتا سخت موذی اور ضرر رساں ہوتا ہے، اس لیے اس مشابہت کی وجہ سے اس پر "شیطان" کا اطلاق کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم:(سورۃ الانعام،الآية:112)
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
تفسیر ابن کثیر:(30/1،ط:دار الكتب العلمية)
ﻭاﻟﺸﻴﻄﺎﻥ ﻓﻲ ﻟﻐﺔ اﻟﻌﺮﺏ ﻣﺸﺘﻖ ﻣﻦ ﺷﻄﻦ ﺇﺫا ﺑﻌﺪ، ﻓﻬﻮ ﺑﻌﻴﺪ ﺑﻄﺒﻌﻪ ﻋﻦ ﻃﺒﺎﻉ اﻟﺒﺸﺮ ﻭﺑﻌﻴﺪ ﺑﻔﺴﻘﻪ ﻋﻦ ﻛﻞ ﺧﻴﺮ
تفسير ابن كثير:(138/1،ط:دار الكتب العلمية)
ﻭﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺎﺗﻢ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺎﺩ ﻳﻌﻨﻲ اﺑﻦ اﻟﻌﻮاﻡ ﻋﻦ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﺑﻦ ﺣﺴﻴﻦ ﻋﻦ ﻳﻌﻠﻰ ﺑﻦ ﻣﺴﻠﻢ ﻋﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺟﺒﻴﺮ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺇﺑﻠﻴﺲ اﺳﻤﻪ ﻋﺰاﺯﻳﻞ
التفسير المظهري:(57/1،ط: رشيدية)
ﻭاﻟﺸﻴﻄﺎﻥ ﻣﻦ الشطن ﺑﻤﻌﻨﻰ اﻟﺒﻌﺪ ﺳﻤﻰ ﺑﻪ ﻟﺒﻌﺪﻩ ﻣﻦ اﻟﺨﻴﺮ ﻭاﻟﺮﺣﻤﺔ
التفسير المظهري:(279/3،ط: رشيدية)
ﻭاﻟﻤﺮاﺩ ﺑﺎﻟﺸﻴﺎﻃﻴﻦ اﻟﻤﺘﻤﺮﺩﻭﻥ ﻣﻦ اﻟﻔﺮﻳﻘﻴﻦ ﻗﺎﻝ ﻗﺘﺎﺩﺓ ﻭﻣﺠﺎﻫﺪ ﻭاﻟﺤﺴﻦ اﻥ ﻣﻦ اﻻﻧﺲ ﺷﻴﺎﻃﻴﻦ ﻭاﻟﺸﻴﻄﺎﻥ اﻟﻌﺎﺗﻲ اﻟﻤﺘﻤﺮﺩ ﻣﻦ ﻛﻞ شيء
تفسیر روح المعاني:(232/1،ط: دار الكتب العلمية)
ﻭاﺳﺘﺸﻌﺮ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﻧﺪاﺋﻪ ﺑﺈﺑﻠﻴﺲ- ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ اﺳﻤﻪ ﻣﻦ ﻗﺒﻞ- ﺑﻞ ﻛﺎﻥ اﺳﻤﻪ ﻋﺰاﺯﻳﻞ، ﺃﻭ اﻟﺤﺎﺭﺙ، ﻭﻛﻨﻴﺘﻪ ﺃﺑﺎ ﻣﺮﺓ
سنن أبي داود: (باب ما یقطع الصلاۃ،رقم الحديث:702)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، وَابْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ حَفْصٌ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ، وَقَالَا: عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَيْدُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ".
بذل المجهود:(باب ما يقطع الصلاة،249/4،ط: رشیديه)
(كما سألتني فقال: الكلب الأسود شيطان) حمله بعضهم على ظاهره وقال: إن الشيطان يتصور بصورة الكلاب، وقيل: بل هو أشد ضررًا من غيره، فسمى شيطانًا.
فتح الباري شرح صحيح البخاري:(ﺑﺎﺏ ﺻﻔﺔ ﺇﺑﻠﻴﺲ وجنوده،339/6،ط: دار المعرفة)
ﺇﺑﻠﻴﺲ اﺳﻢ ﺃﻋﺠﻤﻲ ﻋﻨﺪ اﻷﻛﺜﺮ ﻭﻗﻴﻞ ﻣﺸﺘﻖ ﻣﻦ ﺃﺑﻠﺲ ﺇﺫا ﺃﻳﺌﺲ ﻗﺎﻝ ﺑﻦ اﻷﻧﺒﺎﺭﻱ ﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻋﺮﺑﻴﺎ ﻟﺼﺮﻑ ﻛﺈﻛﻠﻴﻞ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻄﺒﺮﻱ ﺇﻧﻤﺎ ﻟﻢ ﻳﺼﺮﻑ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻋﺮﺑﻴﺎ ﻟﻘﻠﺔ ﻧﻈﻴﺮﻩ ﻓﻲ ﻛﻼﻡ اﻟﻌﺮﺏ ﻓﺸﺒﻬﻮﻩ ﺑﺎﻟﻌﺠﻤﻲ ﻭﺗﻌﻘﺐ ﺑﺄﻥ ﺫﻟﻚ ﻟﻴﺲ ﻣﻦ ﻣﻮاﻧﻊ اﻟﺼﺮﻑ ﻭﺑﺄﻥ ﻟﻪ ﻧﻈﺎﺋﺮ ﻛﺎﺧﺮﻳﻂ ﻭاﺿﻠﻴﺖ ﻭاﺳﺘﺒﻌﺪ ﻛﻮﻧﻪ ﻣﺸﺘﻘﺎ ﺃﻳﻀﺎ ﺑﺄﻧﻪ ﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻛﺬﻟﻚ ﻟﻜﺎﻥ ﺇﻧﻤﺎ ﺳﻤﻲ ﺇﺑﻠﻴﺲ ﺑﻌﺪ ﻳﺄﺳﻪ ﻣﻦ ﺭﺣﻤﺔ اﻟﻠﻪ ﺑﻄﺮﺩﻩ ﻭﻟﻌﻨﻪ ﻭﻇﺎﻫﺮ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻳﺴﻤﻰ ﺑﺬﻟﻚ ﻗﺒﻞ ﺫﻟﻚ ﻛﺬا ﻗﻴﻞ ﻭﻻ ﺩﻻﻟﺔ ﻓﻴﻪ ﻟﺠﻮاﺯ ﺃﻥ ﻳﺴﻤﻰ ﺑﺬﻟﻚ ﺑﺎﻋﺘﺒﺎﺭ ﻣﺎ ﺳﻴﻘﻊ ﻟﻪ ﻧﻌﻢ ﺭﻭﻯ اﻟﻄﺒﺮﻱ ﻭﺑﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﻋﻦ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻗﺎﻝ ﻛﺎﻥ اﺳﻢ ﺇﺑﻠﻴﺲ ﺣﻴﺚ ﻛﺎﻥ ﻣﻊ اﻟﻤﻼﺋﻜﺔ ﻋﺰاﺯﻳﻞ ﺛﻢ ﺇﺑﻠﻴﺲ ﺑﻌﺪ ﻭﻫﺬا ﻳﺆﻳﺪ ﺫﻟﻚ اﻟﻘﻮﻝ ﻭاﻟﻠﻪ ﺃﻋﻠﻢ
الاتقان في علوم القرآن للسيوطي: (النوع التاسع والستون،83/4،ط:الهيئة المصرية)
ﻭﺃﺧﺮﺝ اﺑﻦ ﺟﺮﻳﺮ ﻋﻦ اﻟﺴﺪﻱ ﻗﺎﻝ ﻛﺎﻥ اﺳﻢ ﺇﺑﻠﻴﺲ اﻟﺤﺎﺭﺙ ﻗﺎﻝ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻫﻮ ﻣﻌﻨﻰ ﻋﺰاﺯﻳﻞ.
ﻭﺃﺧﺮﺝ اﺑﻦ ﺟﺮﻳﺮ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻖ اﻟﻀﺤﺎﻙ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻗﺎﻝ: ﺇﻧﻤﺎ ﺳﻤﻲ ﺇﺑﻠﻴﺲ ﻷﻥ اﻟﻠﻪ أبلسه ﻣﻦ اﻟﺨﻴﺮ ﻛﻠﻪ: ﺁﻳﺴﻪ ﻣﻨﻪ.
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی