resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیمار شخص کے لیے تبلیغی جماعت میں جانے کے لیے والدین کی اجازت اور اس کے سفر کے اخراجات بھائیوں پر لازم ہونے کا حکم

(39779-No)

سوال:
محترم مفتی صاحب! میرا ایک بھائی ہے جس کی عمر 35 سال ہے، اس کو بچپن سے مرگی کی بیماری ہے اور وہ کوئی کام کاج نہیں کر سکتا، البتہ وہ شروع سے دعوت وتبلیغ کے کام سے منسلک ہے، ہر سال 40 دن یا 4 ماہ جماعت کے ساتھ نکلتا ہے، جس کا خرچ ہم بہن بھائی ادا کرتے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے اس کی بیماری بڑھ گئی ہے اور تقریباً 10000 روپے ماہانہ دوا کا بھی خرچ ہمارے ذمّہ ہے، اب بھائی کہہ رہا ہے کہ اسے ہم چار ماہ کی دوا اور باقی اخراجات کے لیے رقم دے دیں۔ ہمارے والدین اس لیے پریشان ہیں کہ تبلیغی سفر کے دوران بیمار نہ ہو جائے، اس لیے وہ اس کے جانے کی بخوشی اجازت نہیں دے رہے۔ دوسری طرف ہم سارا خرچ یک مشت ادا بھی نہیں کر سکتے، بھائی کو سمجھاتے ہیں یا اس کو پیسے وغیرہ نہیں دیتے تو وہ بیمار ہو جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا والدین کی اجازت کے بغیر تبلیغی جماعت کے ساتھ جانا ٹھیک ہے؟ اور کیا اس بھائی کے یہ اخراجات برداشت کرنا ہماری ذمہ داری میں داخل ہے؟ اور کیا ہم اس کو رقم دینے سے انکار کریں تو کیا ہم گناہگار ہوں گے؟

جواب: واضح رہے کہ جس سفر میں ہلاکت یا بیمار ہونے کا اندیشہ ہو، اس سفر میں نکلنے کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بھائی کو مناسب انداز سے سمجھایا جائے کہ دعوت و تبلیغ کا کام اگرچہ بہت بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے، لیکن اس موقع پر والدین کی بات ماننا آپ کے لیے بہت اہم اور ضروری ہے۔ نیز یہ بھی سمجھا دیا جائے کہ اگر آپ ایک حکمِ شرعی پر عمل کرنے کی وجہ سے جماعت میں نہیں جا سکیں گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے قوی امید ہے کہ وہ آپ کو جماعت میں نکلنے کے پورے اجر و ثواب سے نوازیں گے۔
سمجھانے کے باوجود اگر وہ پھر بھی جماعت میں جانے پر بضد ہو، اور نہ جانے کی صورت میں اس کے بیمار ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو اگرچہ اس کے یہ اخراجات شرعاً آپ لوگوں پر لازم نہیں ہیں، لیکن اگر آسانی کے ساتھ کہیں سے انتظام ہو سکتا ہو اور جماعت کے دیگر ساتھی اس دوران اس کا بھرپور خیال رکھ سکتے ہوں تو اخراجات کا انتظام کرکے اسے جماعت میں نکلنے کی اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

الفتاوى الهندية: (365/5، ط: دار الفكر)
وقال محمد - رحمه الله تعالى - في السير الكبير إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة وكره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين ونفقتهما عليه وماله لا يفي بالزاد والراحلة ونفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه وإن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما وإن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرة.

وكذا الجواب فيما إذا خرج للتفقه إلى بلدة أخرى إن كان لا يخاف عليه الهلاك بسبب هذا الخروج كان بمنزلة السفر للتجارة وإن كان يخاف عليه الهلاك كان بمنزلة الجهاد هذا إذا خرج للتجارة إلى مصر من أمصار المسلمين فأما إذا خرج للتجارة إلى أرض العدو بأمان فكرها خروجه فإن كان أمرا لا يخاف عليه منه وكانوا قوما يوفون بالعهد يعرفون بذلك وله في ذلك منفعة فلا بأس بأن يعصيهما.

وإن كان يخرج في تجارة إلى أرض العدو مع عسكر من عساكر المسلمين فكره ذلك أبواه أو أحدهما فإن كان ذلك العسكر عظيما لا يخاف عليهم من العدو بأكبر الرأي فلا بأس بأن يخرج وإن كان يخاف على أهل العسكر من العدو بغالب الرأي لا يخرج بغير إذنهما وكذلك إن كانت سرية أو جريدة خيل أو نحوها فإنه لا يخرج إلا بإذنهما لأن الغالب هو الهلاك في السرايا كذا في المحيط.

امداد الفتاوی: (484/4، ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs