resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: احادیث کا انکار کرنے والے فرقے کا حکم

(35640-No)

سوال: میں بنگلہ دیش ڈھاکہ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان مسلمان ہوں، میں اپنی بساط کے مطابق سلف صالحین کے منہج پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں، میں اللہ کی رضا کے لیے دعوتِ دین دیتا ہوں، اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد سے اسلام کے بارے میں بات کرتا ہوں اور آن لائن بھی دین کی بات پھیلانے کی کوشش کرتا ہوں۔
حال ہی میں مجھے سوشل میڈیا پر ایک نئے فرقہ وارانہ گروہ کے بارے میں شدید تشویش لاحق ہوئی ہے جس کا نام “سبمیشن (Submission)” ہے، جو نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے یہ نام اس لیے رکھا ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صرف اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں، لیکن میرے علم کے مطابق وہ ایک نہایت سنگین گناہ بلکہ کفر میں مبتلا ہیں۔
یہ لوگ تمام احادیث کا انکار کرتے ہیں، ان کے فورمز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پانچ ہزار سے زائد اراکین ہیں۔ یہ لوگوں کو اپنے دام میں پھنساتے ہیں، احادیث میں جھوٹے تضادات اور غلط مثالیں پیش کر کے اپنے نظریات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام لوگوں سے مناظرے کر کے انہیں ذہنی طور پر الجھا دیتے ہیں اور آخرکار انہیں اپنے گروہ میں شامل کر لیتے ہیں۔
میری نظر میں یہ ایک بڑا فتنہ ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی امت کو تقسیم کر رہا ہے۔ یہ سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے پھیل رہے ہیں، اور ان کے پیروکار صرف پانچ ہزار تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے عورتوں کو بھی بھرتی کے لیے استعمال کیا ہوا ہے۔ یہ حجاب، نقاب اور خمار کا انکار کرتے ہیں، ہمیں مظلوم کہتے ہیں، حق پر قائم لوگوں کو انتہا پسند قرار دیتے ہیں، سنت کے تمام احکام کو رد کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ میں اس صورتِ حال سے بہت پریشان ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں، کیونکہ یہ گروہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔
میرا سوال یہ ہے: کیا یہ لوگ گمراہی اور باطل کے راستے پر ہیں اور قرآن کے خلاف ہیں؟ کیا ان کے عقائد میں کفر پایا جاتا ہے؟
اور کیا احادیث کا انکار کرنا جائز ہے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: آپ نے سوال میں جس گروہ کا ذکر کیا ہے، تلاش اور جستجو کے باوجود ان کے افکار اور نظریات کے بارے میں کسی بھی قسم کا مواد نہیں مل سکا ہے، اس لیے ان کے بارے میں حتمی بات کہنا مشکل ہے، البتہ آپ کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ احادیث مبارکہ کا انکار کرتے ہیں، لہذا اگر یہ لوگ احادیث مبارکہ کا مطلقاً انکار کرتے ہیں اور حدیث کو سرے سے حجّت ہی نہیں مانتے تو ایسے لوگوں کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن اگر یہ لوگ نفسِ حدیث کی حجِّیَت کے تو قائل ہیں، لیکن کسی مقبول حدیث کو نہیں مانتے تو ایسی صورت میں تفصیل ہے، بعض صورتوں میں کفر لازم آتا ہے اور بعض میں نہیں، لہذا اگر مذکورہ گروہ حدیث کی حجِّیَت کا قائل ہے اور کسی مخصوص حدیث کا انکار کرتا ہے تو اس صورت میں آپ کو چاہیے کہ اس حدیث کو بعینہ نقل کرکے سوال دوبارہ ارسال فرمائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم:(سورۃ النساء، رقم الآیۃ: 64)*
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ‌ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اِذْ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ جَآءُوۡكَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰهَ وَاسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا‏ O

*الفتاوى الهندية: (265/2، ط: رشیدیة)*
"ومن أنكر المتواتر فقد كفر، ومن أنكر المشهور يكفر عند البعض، وقال عيسى بن أبان: يضلل ولا يكفر، وهو الصحيح ومن أنكر خبر الواحد لا يكفر غير أنه يأثم بترك القبول هكذا في الظهيرية"

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs