resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حضرت عائشہؓ کی کم عمری میں شادی سے متعلق اعتراضات کا جواب

(35637-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! میں کئی سالوں سے گمراہی میں مبتلا ہوں، براہِ کرم AI / چیٹ جی پی ٹی کا جواب نہ دیں، بلکہ آپ خود مجھے جواب دیں، اگر میں اسلام کی طرف واپس آ گیا تو زندگی بھر آپ کے لیے دعا کرتا رہوں گا۔ جب میں اسلام کو ماننے کی کوشش کرتا ہوں تو میرا ذہن مفلوج ہو جاتا ہے، پچھلے دو سے چار سالوں سے میں اپنی زندگی میں کچھ بھی نہیں کر پا رہا، میں شدید ڈپریشن میں رہتا ہوں اور میرے دل سے ایمان ختم ہو چکا ہے۔
براہِ کرم پورا سیاق و سباق پڑھیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے وقت عمر 9 سال تھی، اس پر امت کا اجماع ہے۔ اسلام قمری (چاند) کیلنڈر کو فالو کرتا ہے، جس کے مطابق: 9 قمری سال = 8 سال 8 مہینے 24 دن (شمسی عمر) (اس بات کو مفتی حضرات بھی تسلیم کرتے ہیں)
*نکتہ نمبر 1:* اس عمر سے پہلے ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے رخصتی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ اپنی اہلیہ کو اپنے گھر کیوں نہیں لے جاتے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: میرے پاس مہر نہیں ہے، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مہر دیا اور رخصتی ہو گئی۔ تو کیا 8 سال کی عمر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بالغ ہو چکی تھیں؟ (یہ حدیث ہے، میں اس کا حوالہ دے سکتا ہوں)
*نکتہ نمبر 2:* انصار کی عورتوں نے 9 قمری عمر سے پہلے ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بالغ سمجھ لیا تھا، اسی وجہ سے ان کی رخصتی 9 سال میں ہوئی۔
*نکتہ نمبر 3:* حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں کہ ان کے بال جھڑ گئے تھے اور وہ بیمار پڑ گئی تھیں۔
کچھ مفتی یہ کہتے ہیں کہ یہ حیض (بلوغت) کی وجہ سے ہوا اور بعد میں ان کے بال دوبارہ آ گئے۔ اگر بال دوبارہ آنے میں تقریباً ایک سال لگتا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 9 قمری سال سے پہلے یعنی تقریباً 8 سال کی عمر میں ہی بالغ ہو چکی تھیں؟ اگر رخصتی 9 قمری عمر میں ہوئی تو بلوغت تو اس سے پہلے ہی ہو چکی ہوگی، تبھی رخصتی ہوئی۔
*اصل کنفیوژن*
میرا سوال یہ نہیں ہے کہ لڑکی 8 یا 9 سال میں بالغ ہو سکتی ہے یا نہیں؟ میں مانتا ہوں کہ نایاب صورتوں میں یہ ممکن ہے اور 200 سال پہلے 9–10 سال میں شادی ایک عام بات تھی اور قابلِ فہم بھی۔ میں ذاتی طور پر سمجھ سکتا ہوں، کیونکہ میں پڑھا لکھا ہوں اور علم رکھتا ہوں، اس لیے میرے لیے یہ عمر منطقی طور پر بلوغت کے لیے ممکن ہے۔
*سوال نمبر 1:* اگر اسلام ایک سادہ اور منطقی دین ہے، جو ہر زمانے اور ہر سطح کے لوگوں کے لیے ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسی بات کیوں باقی رہنے دی جو عام لوگوں کے لیے سمجھنا تقریباً ناممکن ہے یا اسے اتنا مشکل، نایاب یا سخت کیوں رکھا گیا جسے عام لوگ سمجھ ہی نہ سکیں اور جس کا کوئی واضح ثبوت بھی نہ ہو؟
یعنی اگر 9 کے بجائے 10 بھی رکھا جاتا تو بات سمجھ میں آتی، لیکن 9 رکھا، وہ بھی قمری سال کے حساب سے۔ جب اسلام کے نبی ﷺ پر یہ الزام لگتا ہے کہ انہوں نے 8–9 سال کی لڑکی سے شادی کی تو میں مسلمان ہوتے ہوئے بھی کنفیوژن میں آ جاتا ہوں اور میرا ذہن مفلوج ہو جاتا ہے، پھر جو غیر مسلم یا ملحد ہے، وہ اسلام کو کیسے سمجھے گا؟ یہ بات صرف مجھ جیسے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر عام اور سادہ انسان کے لیے سمجھنے کے قابل ہونی چاہیے۔
*سوال نمبر 2:* چونکہ لوگوں نے کبھی اپنی آنکھوں سے 8–9 سال کی لڑکی کو بالغ ہوتے نہیں دیکھا، یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اتنی مشکل بات رکھی جس کا کوئی عام، قابلِ مشاہدہ ثبوت نہیں ملتا، جو منطقی طور پر لوگوں کے ذہن میں نہیں بیٹھتی (کیونکہ لوگوں کا ذہن فوراً ایک عام 8–9 سال کی بچی کی طرف چلا جاتا ہے) تو پھر عام اور سادہ لوگوں کے لیے اس بات کو سمجھنا اور اخلاقی طور پر قبول کرنا کیسے ممکن ہے؟

جواب: امّ المومنین حضرت عائشہ ؓ کی شادی سے متعلق چند اہم امور درج ذیل ہیں، جن سے آپ کے سوالوں کا جواب واضح ہوجائے گا:
1) شادی کس عمر میں ہونی چاہیے اور کس عمر میں نہیں؟ ہر معاشرے، سماج اور مُلک میں اس کا جواب مخلتف ہوسکتا ہے، آج بھی کچھ ممالک میں شادی کی کم سے کم عمر بارہ سال، کچھ میں چودہ، کچھ میں سولہ، اٹھارہ اور اکیس سال ہے۔ اسی طرح مختلف زمانوں کے اعتبار سے بھی شادی کی کم سے کم عمر میں فرق رہا ہے۔ عام طور پر جو بات اکثر معاشروں میں رائج رہی ہے اور وہی اسلام کا مزاج بھی ہے کہ شادی کے لیے کسی خاص عمر کی تعیین نہیں ہے، بلکہ اس کا مدار دو چیزوں پر ہے، یعنی بنیادی نسوانی عقل و شعور اور بلوغت۔ اور یہی بات ہر عقلِ سلیم رکھنے والے کو آسانی سے سمجھ آسکتی ہے کہ جب لڑکی اور لڑکا بالغ ہوجائیں اور انہیں شادی کا بنیادی شعور ہوجائے تو ان کی شادی کردینی چاہیے۔
2) رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عمومی مزاج جلد شادیوں کا ہی تھا، لڑکوں کی شادیاں بھی جلدی ہوجاتی تھیں، اور لڑکوں کی بھی، حضرت عمرو بن العاصؓ اور ان کے بیٹے عبداللہؓ دونوں صحابی تھے، اور ان کی عمر کا باہمی فرق صرف بارہ، تیرہ سال تھا، جو بہت حیران کن ہے۔ حضرت عباسؓ نے اپنے دونوں بیٹوں فضل بن عباس اور عبداللہ بن عباس سے کہا کہ جب تم دونوں بالغ ہوجاؤ تو فورًا آکر مجھے بتانا، میں تمہاری شادی کردوں گا، تاکہ تم کسی گناہ میں مبتلا نہ ہوجاو۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی وقت تین صاحبزادیوں کا نکاح ہوچکا تھا، اور بڑی والی صاحب زادی حضرت زینبؓ کی تو رخصتی بھی ہوگئی تھی، جن کی عمر بعثت کے وقت بھی زیادہ سے زیادہ ۱۴ سال ہوسکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ کی حضرت خدیجہ سے شادی ۲۵ سال کی عمر میں ہوئی تھی، اس اعتبار سے بعثت کے وقت شادی کو پندرہ سال گزرے تھے، اور اس سے پہلے زینبؓ کی شادی ہوگئی تھی۔
3) بلکہ اُس زمانے میں تو ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ بچی کی تیرہ چودہ سال کی عمر تک والدین پریشان ہوجاتے تھے کہ بچیاں اتنی بڑی ہوگئیں اور رشتے نہیں آرہے، جب کہ آج کل پچیس چھبیس سال تک لوگ رشتوں کی تلاش ہی شروع نہیں کرتے تو اس میں عقلی طور پر غلط موجودہ معاشرے کا مزاج ہے یا اُس وقت کا مزاج؟ ظاہر ہے کہ غلط موجود معاشرے کا مزاج ہے جو قابلِ اصلاح ہے۔
4) دین اسلام ایک مکمل دین ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی سنّت ایک کامل، مکمل اور ساری انسانیت کے لیے کامل نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے، جو قرآن شریف کا اٹل فیصلہ ہے، ہر ایمان رکھنے والے شخص کو قرآن کے اس واضح اعلان پر سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے، اور جہاں تک عقل کی پہنچ نہ ہوپا رہی ہو، وہاں عقل کے بے دریغ استعمال سے بچنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دینِ اسلام مکمل طور پر معقول (LOGICAL) ہے، مگر اس کے لیے عقلِ سلیم کی ضرورت ہے، اس لیے اگر دین یا سنت کی کوئی بات کسی خاص شخص کی عقل میں درست معلوم نہ ہو تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ بات حقیقت میں بھی درست نہیں، بلکہ درست بات اگر درست معلوم نہیں ہورہی تو اس میں عقل کا ہی فتور ہے، جیسے مریض کو مرض میں بعض اوقات میٹھی چیز بھی کڑوی معلوم ہوتی ہے، اس میں قصور میٹھی چیز کا نہیں، بلکہ بیماری کا ہے، جب بیماری ختم ہوگی تو منہ کی کڑواہٹ جاتی رہے گی۔
5) دیگر ازواج کے ہوتے ہوئے ایک ایسی زوجہ کی بھی ضرورت عقلی طور پر مسلَّم ہے جو باہر کے ماحول اور تجربات سے بالکل ناواقف ہو، اور پہلا ماحول اور تجربہ جو اسے حاصل ہو وہ نبیﷺ کی سنّت مطہرہ کا ماحول ہو، تاکہ وہ اسے بالکل اسی طرح محفوظ کرسکے جیسا کہ وہ ہے۔ اور اس میں اپنے اس ذاتی مزاج کی کچھ بھی آمیزش نہ ہو جو باہر کے تلخ و شیریں ماحول سے کسی بھی طرح مخلوط ہوا ہو، چنانچہ صدّیقہ طاہرہ عائشہؓ کا انتہائی بچپن صدیق کے گھر میں گزرا، اور پھر سنِ بلوغ کو پہنچتے ہی رسول اللہ کی ہمراز ہوئیں، اور پھر دین کا تقریباً نصف حصہ رسول اللہ ﷺ سے محفوظ کرکے امّت تک پہنچایا۔ یہ وافر حصہ اُمّہات المومنین میں سے کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔
6) "آپ نے لکھا ہے ۸، ۹ سال کی عمر میں بلوغت کبھی دیکھی نہیں" تو یہ آپ کی کم علمی ہے کہ آپ کو معلوم نہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کی رو سے ۸ سال، بلکہ ساڑھے سات سال سے لڑکی میں بلوغت کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوسکتی ہیں، البتہ چھ یا سات سال سے کم عمر بچی میں بھی اگرچہ بلوغت ممکن ہے، مگر اسے قبل از وقت بلوغت (Precocious puberty) کہا جاسکتا ہے۔ ذیل میں چند حوالہ جات کے لنک پیش کیے جاتے ہیں، جو ایک ہی کلک میں آسانی سے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
https://www.endocrine.org/patient-engagement/endocrine-library/precocious-puberty
https://www.mayoclinichealthsystem.org/hometown-health/speaking-of-health/talking-with-children-about-puberty
https://medlineplus.gov/ency/article/007694.

7) پھر جلد یا بدیر بلوغت میں غذا کا بھی اثر ہوتا ہے، جیسا کہ سائنسی طور پر بھی یہ بات ثابت شدہ ہے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ أُمِّي تُعَالِجُنِي لِلسُّمْنَةِ، تُرِيدُ أَنْ تُدْخِلَنِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَمَا اسْتَقَامَ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى أَكَلْتُ الرُّطَبَ ‌بِالْقِثَّاءِ، فَسَمِنْتُ كَأَحْسَنِ سِمْنَةٍ. » سنن ابن ماجه: (رقم الحديث: 3324)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: میری والدہ مجھے موٹا کرنے کے ليے طرح طرح کی چیزیں مجھے کھلاتی رہیں، تاکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح اور رخصتی میں بھیج دیں، لیکن میرے جسم نے کسی چیز کو قبول نہ کیا، یہاں تک کہ میں نے کھجوریں اور ککڑیاں کھائیں تو میں بہترین انداز میں موٹی ہوگئی"۔
سائنسی طور پر بھی یہ بات ثابت ہے کہ جلد بلوغت میں غذا کا اثر بھی شامل ہوسکتا ہے، جیسا کہ درج بالا حوالوں میں ذکر کردہ ویب سائٹس پر بھی آسانی سے ملاحظہ فرمایا جاسکتا ہے۔
امید ہے کہ درج بالا امور آپ کی تشفّی کے لیے کافی ہوں گے۔
آپ کے لیے مشورہ ہے کہ مُلحدین اور تشکیک پھیلانے والوں لوگوں سے دور رہیں، اور ان کی ویڈیوز دیکھنے سے باز رہیں، خود حضرت عائشہؓ اپنی جلد شادی پر اور حضورﷺ کی محبوب ترین زوجہ ہونے پر فخر کرتی تھیں، حتّٰی کہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کا نکاح اور رخصتی دونوں شوال کے مہینے میں ہوئے تھے،تو حضرت عائشہؓ لوگوں کو شوال میں ہی رخصتی کو پسند کرتی تھیں، فرماتی تھیں: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں نکاح کیا اور شوال ہی میں میرے ساتھ رخصتی فرمائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی میرے مقابلے میں آپ کے نزدیک زیادہ محبوب تھی؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ اپنی زیر سرپرستی خواتین کی رخصتی بھی شوال میں کریں”۔ (صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1423)
افسوس ہے کہ حضرت عائشہؓ تو اپنے نکاح پر اتنی خوش ہیں کہ وہ مہینہ بھی اتنا پسند ہے، جس میں نکاح اور رخصتی ہوئی، مگر آج کے ملحدین اور ان سے متاثر ہونے والے ان کے اس نکاح پر نوجوانوں کو دین سے گمراہ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ عقلی، سائنسی اور سماجی و معاشرتی طور پر ہر طرح سے ان کی بات بالکل لغو ہے، جیسا کہ اوپر اس کی تفصیل گزرچکی۔ اللہ تعالی ہمیشہ گمراہی سے محفوظ فرمائے اور حق سچ کو درست انداز میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن ابن ماجه: (رقم الحديث: 3324)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ أُمِّي تُعَالِجُنِي لِلسُّمْنَةِ، تُرِيدُ أَنْ تُدْخِلَنِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَمَا اسْتَقَامَ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى أَكَلْتُ الرُّطَبَ ‌بِالْقِثَّاءِ، فَسَمِنْتُ كَأَحْسَنِ سِمْنَةٍ. »

صحيح مسلم: (2/ 1039، رقم الحدیث: 1423، دار إحياء التراث العربي)
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ. (وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ) قَالَا: حدثنا وَكِيعٌ. حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَوَّالٍ. وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ. فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَحْظَى عَنْدَهُ مِنِّي؟ قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شوال.»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs