عنوان: دھاگے والی تسبیح کے اندر تعداد کے لیے مقررہ علامات کی حقیقت (11023-No)

سوال: میری والدہ کو ان کے پوتے نے عمرہ کے بعد ہدیہ میں تسبیح لا کر دی ہے، والدہ کو اس کے استعمال میں جھجھک ہے، کیونکہ اس میں تین امام ہیں، جبکہ عموما تسبیح میں دو امام ہوتے ہیں، کیا وہ اس تسبیح کو خود استعمال کرسکتی ہے یا کسی اور کو دے سکتی ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ تسبیح سے اصل مقصود ذکر و اذکار کی تعداد کو شمار کرنے میں سہولت حاصل کرنا ہے، چنانچہ اس سہولت کے لیے مروجہ دھاگے والی تسبیح بنائی گئی ہے، اس کی کوئی خاص شکل شریعت میں مطلوب و مقصود نہیں ہے، اس لیے تسبیح کے ذریعے اذکار کی تعداد کو شمار کرنے کے لیے سہولت کے طور پر جو علامات (جن کو لوگ امام کہتے ہیں) مقرر کی جاتی ہیں، ان کے کم یا زیادہ ہونے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، لہذا ایسی تسبیح جس میں تین علامات (امام) ہوں، ان پر بلا جھجھک ذکر واذکار کر سکتے ہیں، شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی


Print Full Screen Views: 357 Sep 11, 2023
dhage /dhagey wali tasbeeh k andar tadad k liy muqarara alamat ki haqiqat

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.