عنوان: قسطوں پر کوئی چیز خریدنے کیلئے کریڈٹ کارڈ (credit card) بنوانا(11197-No)

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میں قسطوں پر ایک گھر کے لیے فریج لینا چاہتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بغیر کریڈٹ کارڈ کے فریج کی قسطوں پر نہیں ملتا اور جس ویب سائٹ سے میں فریج قسطوں پر خرید رہا ہوں، اس پر بغیر سود کے بارہ مہینوں کی قسطوں پر فرج مل رہا ہے، لیکن شرط تو یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔ میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں ہر ماہ کی قسط وقت پر ادا کروں گا تاکہ مجھ پر کوئی بھی جرمانہ نہ کیا جائے۔ کیا اس مجبوری میں کریڈٹ کارڈ بنوانا جائز ہوگا؟ اگر ناجائز ہوگا تو کوئی جائز ہونے کی بھی صورت بتادیں۔

جواب: واضح رہے کہ مروجہ کریڈٹ کارڈ (credit card) سودی معاہدے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے، نیز بل کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں سود ادا کرنا پڑتا ہے، اس لئے شدید مجبوری کے بغیر کریڈٹ کارڈ کا استعمال شرعا درست نہیں ہے، محض قسطوں میں فریج خریدنا کوئی ایسی مجبوری نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے سودی معاملہ میں داخل ہونے کی گنجائش ہو، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے، نیز یہ ضرورت مستند علماء کرام کی زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق چلنے والے کسی غیر سودی بینک کے اسلامک کارڈ کے ذریعے اگر پوری ہوسکتی ہو تو ان کے ساتھ معاملہ کرنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1598)
عن جابر بن عبد اللّٰه رضي اللہ عنه قال: لعن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم آکل الربوا ومؤکله وکاتبه وشاهدیه، وقال: هم سواء.

اعلاء السنن: (کتاب الحوالة، 499/14 إدارۃ القرآن)
وکل قرض شرط فیه الزیادۃ فهو حرام بلا خلاف، قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادۃً أو ہدیة، فأسلف علی ذٰلك أن أخذ الزیادۃ علی ذٰلك ربا، قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: کل قرض جر منفة فهو ربا۔

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 238 Oct 17, 2023
qiston par koi cheez kharidne ke liye credit card banwana

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.