سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضراتِ مفتیانِ کرام! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ ایک مسئلہ درپیش ہے، اس سلسلے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوئے آن لائن کام کیا جا رہا ہے، لیکن کلائنٹس کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم یو اے ای (UAE) میں موجود ہیں اور دفتر میں کام کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔
یہ کام یو اے ای کی دو بڑی ٹیلی کام کمپنیوں DU اور Etisalat کے ساتھ منسوب ہے، جس میں موبائل فون 1، 2 یا 3 سال کی مدت پر قسطوں (Installments) پر فروخت کیے جاتے ہیں، کام کے دوران یو اے ای میں رہنے والے کلائنٹس کو درج ذیل باتیں بتائی جاتی ہیں:
بعض قومیں (جیسے پاکستانی، انڈین، بنگلہ دیشی، نیپالی وغیرہ) بلیک لسٹ ہیں، اس لیے کمپنی ان کو موبائل فراہم نہیں کرتی۔ جب کمپنی کی طرف سے ویریفکیشن کال آتی ہے تو کلائنٹ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ موبائل کا ذکر نہ کرے، صرف وائی فائی روٹر کا ذکر کرے، ورنہ موبائل منظور نہیں ہوگا۔ اکثر کلائنٹ بھی اسی ہدایت کے مطابق جھوٹ بول دیتا ہے۔
اس کے بعد عملی صورتِ حال یوں ہوتی ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر رائیڈر صرف وائی فائی روٹر دے کر چلا جاتا ہے، کلائنٹ کو کہا جاتا ہے کہ وہ ڈبہ نہ کھولے، دس دن بعد رائیڈر دوبارہ آئے گا اور ایک ہاتھ سے وائی فائی لے کر دوسرے ہاتھ میں موبائل دے گا، حالانکہ حقیقت میں موبائل آنے میں تین سے چار ماہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، سو میں سے صرف ایک یا دو افراد کو دس دن کے اندر موبائل ملتا ہے، باقی کو نہیں، کلائنٹ کو باتوں میں لگا کر مطمئن رکھا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ وائی فائی روٹر کو کمپنی سے کینسل کروا دیا جاتا ہے، کمپنی کو یہ بتایا جاتا ہے کہ کلائنٹ کو وائی فائی درکار نہیں، لیکن یہ بات کلائنٹ کو نہیں بتائی جاتی۔ کلائنٹ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ موبائل کی اپروول کے لیے وائی فائی دس دن اپنے پاس رکھنا ضروری ہے۔ اس طرح ایک طرف کلائنٹس کے ساتھ واضح طور پر دھوکہ دہی ہو رہی ہے، دوسری طرف DU اور Etisalat جیسی بڑی کمپنیوں کو بھی غلط معلومات دے کر دھوکے میں رکھا جا رہا ہے۔
مجھے یہ کام شرعاً درست محسوس نہیں ہوا، اس لیے میں نے یہ کام چھوڑ دیا، لیکن میری کچھ دوستیں اب بھی یہ کام کر رہی ہیں اور اسے جائز سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہم دھوکہ نہیں دے رہے، تھوڑی بہت ہیر پھیر ہر کام میں ہوتی ہے، ہم محنت کر رہے ہیں، اس لیے یہ کام جائز ہے۔”
براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا مذکورہ طریقۂ کار کے ساتھ یہ کام کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اور اگر یہ کام ناجائز ہے تو کیا اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی حرام شمار ہوگی؟ نیز کیا ایسے کام میں شریک رہنا یا اس کی معاونت کرنا بھی گناہ کے زمرے میں آئے گا؟ براہِ کرم واضح اور مدلل فتویٰ مرحمت فرمائیں تاکہ متعلقہ افراد کو سمجھایا جا سکے۔ جزاکم اللہ خیراً والسلام
جواب: واضح رہے کہ کاروبار کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ حلال کاروبار حلال طریقہ سے امانت اور دیانت کے ساتھ کیا جائے، اس میں سودی لین دین، جھوٹ، دھوکہ دہی، رشوت اور ظلم سے اجتناب کیا جائے، اسی طرح کوئی غیر شرعی معاملہ نہ کیا جائے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے." (سنن الترمذی، حدیث نمبر: 1315)
پوچھی گئی صورت میں کام کرنے کا طریقہ کار جھوٹ، غلط بیانی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔ آپ کا جھوٹ اور دھوکہ دہی والے کام سے بچنا قابلِ تعریف عمل ہے، اس سلسلے میں آپ اپنے جاننے والوں کو بھی سچائی اور امانت داری کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔.........
دلائل:
سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 1972، ط: دار الغرب الإسلامي)
"وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كذب العبد تباعد عنه الملك ميلا من نتن ما جاء به"
و فیہ ایضا: (رقم الحدیث: 1315، ط: دار الغرب الإسلامي)
"عن أبي ہریرة رضي اللّہ عنہ قال: من غش فلیس منا"
مرقاة المفاتيح: (رقم الحدیث: 2783، ط: دار الفكر، بيروت)
وعن رافع بن خديج رضي الله عنه قال: «قيل: يا رسول الله: أي الكسب أطيب؟ قال: " عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور» ". رواه أحمد.
(وعن رافع بن خديج قال: قيل: يا رسول الله أي الكسب) : أي أنواعه (أطيب) ؟ أي أحل وأفضل (قال: " عمل الرجل بيده) ، أي من زراعة أو تجارة أو كتابة أو صناعة (وكل بيع مبرور)..... والمراد بالمبرور أن يكون سالما من غش وخيانة"
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی