resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شیئرز مارکیٹ میں انٹر ڈے (Inter day) ٹریڈنگ کا حکم

(36653-No)

سوال: مفتی صاحب! شیئرز مارکیٹ میں انٹر ڈے ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟

جواب: شیئرز/حصص خرید و فروخت میں جواز کی بقیہ تمام شرائط پائے جانے کے باوجود ان کو آگے فروخت کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک خریدار کو ان پر شرعاً قبضہ حاصل نہ ہو جائے۔ موجودہ زمانے میں شیئرز پر قبضہ کی معتبر صورت یہ ہے کہ سی ڈی سی (C.D.C) کے ذریعے کمپنی کے ریکارڈ میں شیئرز خریدار کے نام منتقل ہو جائیں۔ ہماری معلومات کے مطابق خریداری کے دن ہی شیئرز خریدار کے نام منتقل نہیں ہوتے، لہٰذا اس صورت میں قبضہ حاصل ہونے سے پہلے اسی دن (Inter day) شیئرز کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1525)
ابن عباس رضي اللّٰه عنہما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: من ابتاع طعاما فلا یبعه حتی یقبضه۔ قال ابن عباس رضي اللّٰہ عنه: وأحسب کل شيء بمنزلة الطعام

الھدایة: (59/3، ط: دار احیاء التراث العربی)
فصل: "ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه"
لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك".

الدر المختار: (باب بیع الفاسد، 140/4)
"ویجب علی کل واحد منہما فسخہ قبل القبض… او بعدہ ما دام المبیع بحاله فی ید المشتری

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial