resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مضاربت ميں چھ مہینہ بعد اصل رقم کی ادائیگی شرط، مخصوص نفع کی شرط اور قرض کو راس المال بنانا

(37691-No)

سوال: کیا مضاربت میں مضارب یہ شرط لگاسکتا ہے کہ مضاربت کے ختم ہونے کے چھ مہینہ بعد اصل رقم ادا کروں گا؟ دراصل پہلے ایک مخصوص رقم منافع میں شرط لگا لینے کی وجہ سے مضاربت پر پیسے دیے، پھر مضارب سے تقریباً آدھے پیسوں کا نقصان ہوگیا، اب مضارب یہ چاہتا ہے کہ نئے سرے سے مضاربت کا معاہدہ کرتے ہیں اسی رقم پر جو آپ نے پہلے دی تھی۔

جواب: سوال میں تین امور شرعی طور پر قابل وضاحت ہیں، ان کا جواب ملاحظہ فرمائیں:
1) مضاربت ختم ہونے پر چھ ماہ بعد اصل رقم ادا کرنے کی شرط اس طور پر تو درست ہے کہ بعض اوقات مضاربت کے اختتام پر مال مضاربت نقدی کی شکل میں نہیں ہوتا بلکہ اثاثہ جات کی شکل میں ہوتا ہے، جبکہ نفع و نقصان کے معلوم کرنے کے لئے مالِ مضاربت کو نقد میں تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر مضارب اس لئے چھ ماہ کی مہلت مانگتا ہےکہ مالِ مضاربت کو نقد میں تبدیل کرنے کا وقت مل جائے تو یہ شرط باہمی رضامندی سے درست ہے، البتہ اگر اس شرط کا مطلب یہ ہو کہ مضاربت کے کاروبار میں نفع ہوا ہو یا نقصان مضارب بہرحال رب المال کو اس کی اصل رقم چھ ماہ میں ادا کرنے کا پابند ہوگا تو یہ شرط درست نہیں ہے۔
2) مضاربت میں مضارب اور رب المال کے درمیان نفع کی تقسیم فیصدی لحاظ سے ہونا ضروری ہے، چنانہ جب پہلے نفع میں مخصوص رقم کی شرط لگا کر مضاربت پر پیسے دیے تھے تو اس شرط کی وجہ سے وہ مضاربت درست ہی نہیں ہوئی تھی۔ اس کا حکم یہ ہے کہ مضارب نے رب المال کے سرمایہ سے جو کچھ کمایا ہے، وہ سب رب المال کا ہوگا، اور مضارب کو اس کی محنت کا معاوضہ ملے گا، البتہ سوال کے مطابق چونکہ مضارب کو نقصان ہوا ہے تو اگر یہ نقصان مضارب کی کوتاہی اور غلطی کی وجہ سے ہوا ہے تو اس نقصان کا ذمہ دار مضارب ہوگا، اس کی تلافی کرنا مضارب کی ذمہ داری ہوگی، اور اگر نقصان اس کی کوتاہی کی وجہ سے نہیں ہوا تو یہ نقصان رب المال کا ہوگا، مضارب اپنی اجرت کا مستحق ہوگا۔
3) اسی رقم پر نئے سرے سے مضاربت کا عقد کرنے کا مطلب اگر یہ ہے کہ پہلی مضاربت میں نقصان ہونے کی وجہ سے جو رقم مضارب کے ذمہ لازم ہوگئی، اسی کو راس المال (سرمایہ) بنا لیا جائے گا تو ایسا کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ راس المال کے لئے نقد ہونا ضروری ہے، قرض کو راس المال (سرمایہ) نہیں بنایا جاسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: ( 8/24، ط: دار الحدیث قاھرۃ)
ومنھا: أن یکون المشروط لکل واحد منھما۔ من المضارب ورب المال۔ من الربح جزءاً شائعاً، نصفاً أو ثلثاً أو ربعاً، فإن شرطا عدداً مقدراً بأن شرطا أن یکون لأحدھما مائۃ درھم من الربح أو أقل أو أکثر والباقی للآخر لا یجوز، والمضاربۃ فاسدۃ؛ لأن المضاربۃ نوع من الشرکۃ، وھی الشرکۃ فی الربح، وھذا شرط یوجب قطع الشرکۃ فی الربح، لجواز أن لا یربح المضارب إلا ھذا القدر المذکور.

الدر المختار: 501/8، ط: مکتبۃ رشیدیہ کوئتہ)
(وشرطھا) أمور سبعۃ ... ( کون الربح بینھما شائعاً) فلو عیّن قدراً فسدت ( وکون نصیب کل منھما معلوماً) عند العقد.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (6/ 83):
أن يكون رأس المال عينا لا دينا، فإن كان دينا فالمضاربة فاسدة، وعلى هذا يخرج ما ‌إذا ‌كان ‌لرب ‌المال ‌على ‌رجل ‌دين، فقال له: اعمل بديني الذي في ذمتك مضاربة بالنصف، إن المضاربة فاسدة بلا خلاف

بدائع الصنائع: (85/6)
(ومنها) أن يكون المشروط لكل واحد منهما من المضارب ورب المال من الربحجزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا، فإن شرطا عددا مقدرا بأن شرطا أن يكون لأحدهما مائة درهم من الربح أو أقل أو أكثر والباقي للآخر لا يجوز، والمضاربة فاسدة؛ لأن المضاربة نوع من الشركة، وهي الشركة في الربح، وهذا شرط يوجب قطع الشركة في الربح؛ الجواز أن لا يربح المضارب إلا هذا القدر المذكور، فيكون ذلك لأحدهما دون الآخر، فلا تتحقق الشركة، فلا يكون التصرف مضاربة.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (222/2)
(وإن فسدت المضاربة بشيء (فأجير) الأن المضارب عامل لرب المال وما شرطه له كالأجرة على عمله، ومتى فسدت ظهر معنى الإجارة فلا ربح حينئذ لأنه يكون في المضاربة الصحيحة، ولما فسدت صارت إجارة (فله) أي للمضارب أجر مثله أي أجر مثل عمله كما هو حكم الإجارة الفاسدة ربح أو لم يربح) وبه قال الشافعي لأنه لا يستحق المسمى لعدم الصحة، ولم يرض بالعمل مجانا فيجب أجر المثل، وإن لم يربح في رواية الأصل، وعن أبي يوسف لا أجر له إذا لم يربح اعتبارا بالمضاربة الصحيحة.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial