عنوان: مال خرچ کرنے والا افضل ہے یا علم والا ؟(101151-No)

سوال: مفتی صاحب ! ایک وہ شخص ہے، جس کو الله نے مال دیا اور اس نے وہ مال الله کی راہ میں خرچ کیا اور ایک وہ شخص ہے، جس نے الله کا دیا ہوا علم حاصل کیا اور وہ یہ علم دنیا میں بانٹتا رہا، دونوں میں الله کی نظر میں کون بہتر ہے؟

جواب: قال النبي  صلى الله عليه وسلم : " لا حسد إلا في اثنتين ، رجل آتاه الله مالا فسلط على هلكته في الحق ، ورجل آتاه الله الحكمة فهو يقضي بها ويعلمها "
(بخاری، كتاب العلم،بَابُ الاِغْتِبَاطِ فِي الْعِلْمِ وَالْحِكْمَةِ: حدیث نمبر: 73)

ترجمہ:
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز  ہے، ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہ حق میں خرچ کرنے پر مسلط رہتا ہے اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت (کی دولت) سے نوازا  ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہو اور(لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔
اس حدیث میں صاحب علم اور صاحب مال دونوں کا ذکر ہے، لیکن جب ان دونوں میں تقابل کیا جائے تو بہر حال صاحب علم بہتر ہے۔
ارشاد ربانی ہے کہ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ
(سورة زمر: 9)
ترجمہ:
کہو کہ : کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں ؟ (بے شک) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں، جو عقل والے ہیں۔ 

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 239
Maal kharch karnay wala afzal hai ya ilm wala, Is the one who spends money better or the one who has knowledge?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.