عنوان: حضور ﷺ کو "مشکل کشا" کہنے کا حکم(101232-No)

سوال: کیوں رضا مشکل سے ڈرئیے جب نبی مشکل کشا ہو یا یہ شعر درست ہے؟

جواب:
کفریہ وشرکیہ الفاظ کی دوقسمیں ہیں:
پہلی قسم: ایسے الفاظ ہوں جن میں کسی قسم کی تاویل ممکن ہو۔
دوسری قسم: ایسے الفاظ ہوں جن میں کسی طرح کی تاویل ممکن نہ ہو۔
پہلی قسم کا حکم:
اگر ایسے واضح شرکیہ الفاظ ہوں کہ اس میں کسی طرح تاویل کی گنجائش نہ ہو، تو اس صورت میں کسی طرح کی تاویل اس کوکفر سے نہیں بچاسکے گی، اس لئے کہ ضروریات دین میں تاویل سے کفر سے نہیں بچاجاسکتا۔

دوسری قسم کاحکم:
اگر ایسے الفاظ ہوں کہ اس میں کسی طرح کی تاویل ممکن ہو اورایسے الفاظ استعمال کرنے والے سے، جب اس کی مراد معلوم کی جاتی ہے تو وہ کفر صریح کے بجائے کسی بدعقیدگی یاجاہلانہ عقیدے پر دلالت کرتی ہے تو ایسے شخص کے بارے میں کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا، بلکہ اس کے قول میں تاویل کی جائے گی۔
لہذا اب اگر کوئی نبی کو اللہ تعالی ہی کی طرح مشکل کشا اور مددگار سمجھے تو یہ عقیدہ کفر ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ہے اور اگر نبی کے واسطے سے اﷲ تعالی سے مدد طلب کی جاتی ہے تو گناہ کبیرہ کامرتکب ہوگا، کیونکہ واسطہ کی صورت میں بھی خطاب اﷲ تعالی کو ہی ہونا چاہیئے کیونکہ وہی ذات عالم الغیب اورعالم ماکان ومایکون ہے، لیکن یہ شخص کافر نہیں سمجھاجائے گا، البتہ اس صورت میں بھی اس کے پیچھے نماز کراہت سے خالی نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی فتاوی اللجنۃ الدائمۃ:

نداء انسان رسول اﷲﷺ اوغیرہ کعبدالقادر الجیلانی اواحمد التیجانی عندالقیام أوالقعود والاستعانۃ بھم فی ذلک اونحوہ لجلب نفع اودفع ضر نوع من انواع الشرک الاکبر

(97/1)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 255
Huzoor S.A.W ko mushkil kusha kehny ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.